مناسب اجرت کے مطالبے کو لیکر مزدوروں کا سڑکوں پرمظاہرہ میں شدت، کئی جگہوں پر آتش زنی، توڑ پھوڑ اور ناکہ بندی کی خبر ۔
نوئیڈا، 13 اپریل(ہ س) اتر پردیش کے نوئیڈا میں تنخواہوں میں اضافے سمیت مختلف مطالبات کولیکر گزشتہ چار دنوں سے گوتم بدھ نگر کے مختلف صنعتی علاقوں میں دھرنا دے رہے کارکنوں کا احتجاج پیر کو شدت اختیار کر گیا۔ سیکٹر 63، سیکٹر 62، سیکٹر 15، فیز-2 انڈسٹر
اجرت


نوئیڈا، 13 اپریل(ہ س) اتر پردیش کے نوئیڈا میں تنخواہوں میں اضافے سمیت مختلف مطالبات کولیکر گزشتہ چار دنوں سے گوتم بدھ نگر کے مختلف صنعتی علاقوں میں دھرنا دے رہے کارکنوں کا احتجاج پیر کو شدت اختیار کر گیا۔

سیکٹر 63، سیکٹر 62، سیکٹر 15، فیز-2 انڈسٹریل ایریا، سورج پور، نالج پارک ایریا، دادری ایریا، ایکوٹیک-1 نوئیڈا کے صنعتی علاقوں میں مزدوروںنے صبح سے دھرنا شروع کر دیا ہے۔ کارکنوں نے کئی جگہوں پر سڑک پر دھرنا دیا۔ ذرائع کے مطابق کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس کو کئی جگہوں پر طاقت اور آنسو گیس کا استعمال بھی کرنا پڑا ہے۔ کارکنوں نے پولیس کی گاڑیوں میں بھی توڑ پھوڑ کی اور پولیس کی جیپ کو الٹ دیا۔ کئی جگہوں پر کارکنوں نے پرتشدد ہو کر پولیس پر پتھراو¿ کیا۔

مدرسن کمپنی کے قریب کارکنوں نے کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ کئی جگہوں پر دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ یہ رپورٹ درج ہونے تک صورتحال کشیدہ ہے۔ اعلی پولیس افسران اور بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی ہے، لیکن کارکنان اپنے مطالبات پر اٹل ہیں۔

ایڈیشنل کمشنر آف پولیس، امن و امان، راجیو نارائن مشرا نے کہا کہ پولیس ہر صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کارکنوں کو قائل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے صنعت کاروں نے کارکنوں کے کچھ مطالبات قبول کر لیے ہیں۔ ان سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ احتجاج کو پرامن طریقے سے ختم کریں۔ انہوں نے بتایا کہ کارکنان مختلف مقامات پر احتجاج کر رہے ہیں۔ کوئی ان کی قیادت نہیں کر رہا ہے۔ اس سے انتظامیہ کے لیے کارکنوں تک پہنچنا بھی بہت مشکل ہو رہا ہے۔

ضلع مجسٹریٹ گوتم بدھ نگر میدھا روپم اور پولیس انتظامیہ نے کارکنوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے زیادہ تر مطالبات پورے کر لیے گئے ہیں۔ ڈی ایم نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے اور قانون اپنے ہاتھ میں نہ لینے کی اپیل کی ہے۔ اس کے باوجود کارکنان تحریک سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کارکنوں کے احتجاج کی وجہ سے پولیس کو کئی جگہوں پر ٹریفک کا رخ موڑنا پڑا۔ صبح دفتر جاتے ہوئے لوگوں کو گھنٹوں جدوجہد کرتے دیکھا گیا۔ صنعتی ادارے کے ایک رہنما للت ٹھکرال نے کہا کہ احتجاج کی سرپرستی کی گئی تھی۔ کچھ بیرونی عناصر کارکنوں کو یہ دھرنا دینے کے لیے اکسارہے ہیں۔ ان کے مطابق کارکنوں کے زیادہ تر مطالبات قبول کر لیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود مزدور کام پر واپس نہیں آرہے ہیں۔

ضلع مجسٹریٹ گوتم بدھ نگر میدھا روپم نے کہا کہ صنعت کاروں اور مختلف صنعتی تنظیموں کے رہنماو¿ں کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں یہ واضح کیا گیا کہ حکومت کے رہنما خطوط کے مطابق کسی بھی کارکن کو غیر ضروری طور پر ملازمت سے نہیں ہٹایا جائے گا۔ اوور ٹائم کی ادائیگی دوگنی شرح پر کی جائے گی اور کوئی کٹوتی نہیں ہوگی۔ ہر کارکن کو ہفتہ وار چھٹی فراہم کی جائے گی اور اگر اتوار کو کام کیا جائے تو اسے دوگنا معاوضہ دیا جائے گا۔ قواعد کے مطابق تمام کارکنوں کو بونس کی ادائیگی زیادہ سے زیادہ 30 نومبر تک ان کے بینک کھاتوں میں یقینی بنائی جائے گی۔ ہر فیکٹری میں کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کی روک تھام کے لیے کمیٹی قائم کی جائے گی، جس کی سربراہی ایک خاتون کرے گی۔ نیز، کارکنوں کے ساتھ قابل احترام سلوک کو یقینی بنانے کے لیے ایک شکایت خانہ قائم کیا جائے گا۔ ہر کارکن کی تنخواہ ہر ماہ کی 10 تاریخ کے اندر ایک ساتھ ادا کی جائے گی اور سب کے لیے ایک پے سلپ لازمی طور پر دستیاب کرائی جائے گی۔ احتجاج میں ملوث کسی کارکن یا نمائندے کے خلاف کوئی زبردستی یا برطرفی کی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، حکومت اتر پردیش کی طرف سے اعلان کردہ یا نافذ کیے جانے والے تنخواہ میں اضافے کو تمام کارکنوں کو مو¿ثر تاریخ سے ہی فراہم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے تمام خدمات فراہم کرنے والوں اور فیکٹری انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ مذکورہ بالا متفقہ نکات کی 100 فیصد تعمیل کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کارکنوں کے حقوق کی خلاف ورزی کسی بھی حالت میں قابل قبول نہیں ہوگی اور کوئی بھی شکایت موصول ہونے پر متعلقہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ متعلقہ محکمہ جاتی افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ باقاعدگی سے معائنہ کریں اور تعمیل کی صورتحال کا جائزہ لیں تاکہ ضلع میں صنعتی امن و ہم آہنگی برقرار رہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ہدایت کی کہ جو کارکن کام کرنا چاہتے ہیں انہیں کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ساتھ ہی جو مزدور کام نہیں کرنا چاہتے انہیں فیکٹری انتظامیہ کی جانب سے حکومت کے رہنما خطوط کے مطابق ان کے ساتھ خوشگوار بات چیت کرکے مناسب معلومات دی جائیں۔ ڈی ایم نے کہا کہ تمام فیکٹریوں کے مرکزی دروازوں پر سی سی ٹی وی کیمرے کارکنوں کی سہولت کے لیے کام کرنے کی حالت میں رکھے جائیں اور کارکنوں کو ہونے والی کسی بھی تکلیف کی اطلاع فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو دی جائے تاکہ ضروری کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande