
نئی دہلی، 30 مارچ (ہ س)۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے روپے کی گرتی قدر کو سنبھالنے کے لیے پالیسی سطح پر مداخلت کے بعد آج انٹر بینک فارین ایکسچینج مارکیٹ میں ہندوستانی روپے نے شاندار بحالی کے ساتھ 1.22 روپے مضبوطی کے ساتھ 93.59 روپے فی ڈالر کی سطح پر کاروبار کا آغاز کیا۔ اس سے پہلے گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری دن جمعہ کو روپیہ ڈالر کے مقابلے میں اب تک کی کم ترین سطح 94.85 روپے فی ڈالر تک گرنے کے بعد 94.81 پر بند ہوا تھا۔
آج ابتدائی کاروبار میں ہی روپیہ سنبھل کر 93.55 روپے فی ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس طرح مارکیٹ کھلنے کے کچھ ہی دیر بعد ہی روپے نے اپنی اب تک کی کم ترین سطح سے 1.30 روپے کی ریکوری کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ تاہم جیسے جیسے کاروبار آگے بڑھا، روپے پر دباؤ دوبارہ بڑھنے لگا۔ صبح 10:30 بجے تک کے کاروبار کے بعد روپیہ اپنی ابتدائی سطح سے 71 پیسے کمزور ہو کر 94.30 روپے فی ڈالر پر کاروبار کر رہا تھا۔
کرنسی مارکیٹ میں اب تک کے کاروبار کے دوران روپے نے نہ صرف ڈالر بلکہ برطانوی پاو¿نڈ (جی بی پی) اور یورو کے مقابلے میں بھی مضبوط کارکردگی دکھائی۔ صبح 10:30 بجے تک پاؤنڈ کے مقابلے میں روپیہ 1.05 روپے مضبوط ہو کر 125.07 کی سطح پر رہا۔ اسی طرح یورو کے مقابلے میں بھی روپیہ 63.97 پیسے بڑھ کر 108.56 روپے پر کاروبار کر رہا تھا۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق ریزرو بینک (آر بی آئی) کی جانب سے ڈالر-روپیہ لین دین میں سٹے بازی سے متعلق سرگرمیوں پر روک لگانے اورڈالر پر آن شور لانگ مارکیٹ کو محدود کر دینے کی ہدایت دینے کی وجہ سے آج ہندوستانی کرنسی نے ابتدائی کاروبار میں نچلی سطح سے شاندار ریکوری کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
قابلِ ذکر ہے کہ جمعہ کو ہی ریزرو بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ 10 اپریل تک ہر کاروباری دن کے اختتام پر آن شور مارکیٹ میں اپنی نیٹ ڈالر-روپیہ پوزیشن 10 کروڑ ڈالر تک محدود رکھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حد بندی سے ڈالر کی مانگ میں اضافے کے باوجود روپے پر دباو¿ کم ہونے میں مدد ملے گی، جس سے ہندوستانی کرنسی کو کچھ سہارا مل سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد