
حیدرآباد، 30 مارچ (ہ س)۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی سے بی آر ایس ارکان اسمبلی کو بجٹ سیشن کی کارروائی کے لئے معطل کردیا گیا۔ ریاست میں غیر قانونی کانکنی اور خاص طور پر وزیر مال سرینواس ریڈی کی کمپنی راگھو کنسٹرکشن کی جانب سے غیر قانونی کانکنی کی جانچ کے لئے ایوان کی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے بی آر ایس ارکان نے کارروائی کو روک دیا۔ اسمبلی کی کارروائی کے آغاز سے بی آر ایس نے ہریش راؤ اور کے ٹی آر کی قیادت میں احتجاج کیا اور دوپہر تک بھی ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ رہی۔ حکومت کو سرکاری بلز پر مباحث اور منظوری میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ بی آر ایس ارکان نے سرینواس ریڈی کی کابینہ سے برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔ ایک مرحلہ پر بی آر ایس ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور اسپیکر کے پوڈیم کے گھیراؤ کی کوشش کی۔ چوکس مارشلوں نے احتجاجی ارکان کو پوڈیم تک پہنچنے سے روک دیا۔ بی آر ایس اور کانگریس کے ارکان میں تلخ الفاظ کا تبادلہ عمل میں آیا۔ وزیراعلی ریونت ریڈی اور دیگر وزراء کی اپیلوں کے بے اثر ثابت ہونے کے بعد وزیر امور مقننہ ڈی سریدھر بابو نے بی آر ایس ارکان کی معطلی کی قرار داد پیش کی۔ اسپیکر جی پرساد کمار نے قرارداد کو منظورکرلیا اور بی آر ایس ارکان کی معطلی کا اعلان کیا۔ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا آخری دن تھا اور بی آر ایس ارکان معطل کئے گئے جن میں کے ٹی راما راؤ، ہریش راؤ، سبیتا اندرا ریڈی، سرینواس یادو، کوشک ریڈی، پرشانت ریڈی، راجیشور ریڈی، چنتا پربھاکر اور دوسرے شامل ہیں۔قبل ازیں وزیراعلی نے کل 2014 سے آج تک کی غیر قانونی مائننگ اور ریت کی منتقلی معاملات کی سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔ بی آر ایس ارکان ایوان کی کمیٹی کی تشکیل کی مانگ کرتے ہوئے کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کے ذریعہ حکومت راگھو کنسٹرکشن کمپنی کو بچانا چاہتی ہے۔ اپوزیشن رکن کی قیادت میں ایوان کی کمیٹی تشکیل دی جائے یا پھر ہائی کورٹ کے برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کا اعلان کیا جائے۔ دو گھنٹوں سے زائد تک بی آر ایس ارکان کا احتجاج جاری رہا ۔ معطلی کے بعد بی آر ایس ارکان کو مارشلس کے ذریعہ ایوان کے باہر لے جانے کی کوشش کی گئی لیکن بی آر ایس ارکان نعرہ بازی کرتے ہوئے ایوان سے چلے گئے۔ مارشلس نے اسمبلی کی لابی میں بی آر ایس ارکان کو احتجاج کی اجازت نہیں دی اور ارکان نعرہ بازی کرتے ہوئے اسمبلی سے باہر نکل گئے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق