

بھوپال، 29 مارچ (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ ہندوستان میں ہوائی خدمات کی توسیع جتنی تیزی سے ہو رہی ہے وہ ناقابلِ تصور ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی دور اندیشی نے ملک کے ہوا بازی (ایوی ایشن) کے شعبے کی کایا پلٹ کر دی ہے۔ وزیراعظم کی دور رس سوچ اور دور اندیشی ہی کا نتیجہ ہے کہ آج معاشرے کے ہر طبقے کے لیے ہوائی سفر ممکن ہوا ہے۔ اب ہوائی چپل پہننے والا شخص بھی ہوائی جہاز کا سفر کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو اتوار کو اندور میں لوک ماتا اہلیہ بائی انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لوک ماتا اہلیہ بائی کی زندگی ہمیں مفادِ عامہ کا راستہ دکھاتی ہے۔ لوک ماتا کے نقشِ قدم پر چل کر وزیراعظم مودی کی قیادت میں ہم عوامی خدمت کے نئے قدم بڑھا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں ’پی ایم شری ایئر ایمبولینس سروس‘ کا آغاز بھی کیا گیا ہے، جس سے سنگین بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو فوری علاج کے لیے ہائر سینٹر پہنچایا جا رہا ہے۔
پروگرام میں وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اندور ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کا افتتاح کر کے اندور کے شہریوں سمیت پورے مالوا خطے کو جدید ترین ٹرمینل کا تحفہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسافروں کی سہولیات میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، جس سے ہوائی سفر مزید آسان اور آرام دہ بنے گا۔ یہ نیا ٹرمینل اندور کو قومی اور بین الاقوامی نقشے پر مزید مضبوطی کے ساتھ مستحکم کرے گا۔ اندور شہر کی بہترین ہوائی سہولیات کو ’امریکہ کوالٹی کونسل‘ نے کوالٹی سرٹیفکیٹ سے نوازا ہے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کونسل کی جانب سے دیا گیا ’کوالٹی سرٹیفکیٹ آف رجسٹریشن‘ اندور ایئرپورٹ کے عہدیداروں کے سپرد کر کے مبارکباد دی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اندور کے نئے ٹرمینل میں مسافروں کو ورلڈ کلاس سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اندور میں تعمیرِ نو کے منصوبے کے تحت تقریباً 50 کروڑ روپے کی لاگت سے ہونے والے مختلف ترقیاتی و تعمیراتی کاموں اور پرانی ٹرمینل عمارت کی تزئین و آرائش کے بعد اب یہ نیا ٹرمینل فی گھنٹہ تقریباً 400 مسافروں کو سنبھالنے کے قابل ہو گیا ہے۔ اس میں 14 چیک-ان کاونٹرز بنائے گئے ہیں اور تقریباً 300 مسافروں کے بیٹھنے کا انتظام بھی یہاں کیا گیا ہے۔ تقریباً 6 ہزار مربع میٹر رقبے پر محیط اس ٹرمینل کی سالانہ مسافر گنجائش 15 لاکھ ہے۔ یہاں 18 پروازوں کا آپریشن، 150 چار پہیہ گاڑیوں کی پارکنگ اور وی آئی پی روم جیسی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اندور میں مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر ہوائی سہولیات میں تیزی سے توسیع کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس نئے ٹرمینل میں ایک بہت بڑا ویٹنگ ایریا تیار کیا گیا ہے، جس سے رش کے اوقات میں بھی بہتر طریقے سے بھیڑ کا انتظام کیا جا سکے گا۔ مسافروں کی سہولت کے لیے یہاں ’اڑان یاتری کیفے‘ کا آغاز بھی کیا جا رہا ہے۔ اس میں مسافروں کو 10 روپے میں چائے اور 20 روپے میں ناشتہ ملے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں ریاست میں 8 ایئرپورٹ، 20 ہوائی پٹیاں اور 220 ہیلی پیڈز موجود ہیں۔ گزشتہ دو سالوں میں ہی ریاست میں ریوا، ستنا اور دتیا میں نئے ایئرپورٹس کا کامیاب آپریشن ہم نے شروع کیا ہے۔ اجین اور شیوپوری میں بھی نیا ایئرپورٹ بنانے کی تیاری کر لی گئی ہے۔ اس سے ریاست میں کل 10 ایئرپورٹس ہو جائیں گے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ ریاست میں ہر 150 کلومیٹر پر ایک کمرشل ایئرپورٹ، ہر 75 کلومیٹر پر ایک ایئر اسٹرپ اور ہر 45 کلومیٹر پر ایک ہیلی پیڈ کی سہولت دستیاب ہو۔ اس سمت میں ہم تیزی سے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نقل و حمل کے تینوں شعبوں میں ہونے والی بے مثال توسیع مدھیہ پردیش کو مسلسل ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جا رہی ہے۔ ریل اور ہوا بازی کی خدمات میں بڑھتے ہوئے قدموں کے ساتھ ساتھ روڈ کنیکٹیویٹی کے لیے مرکز سے ملنے والے بڑے پیکیج اور ایکسپریس وے کی تعمیر سے ہمارا مدھیہ پردیش اب ملک کا لاجسٹک ہب بنتا جا رہا ہے۔
نئے ٹرمینل کے افتتاحی پروگرام میں مرکزی وزیرِ شہری ہوا بازی کنجاراپو رام موہن نائیڈو نے بھی ورچوئلی شرکت کی۔ پروگرام سے اندور کے رکن پارلیمنٹ شنکر لالوانی سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے شمع روشن کر کے افتتاحی پروگرام کا آغاز کیا۔ تقریب میں وزیرِ آبی وسائل تلسی رام سلاوٹ، سابق وزراء مہندر ہارڈیا، اوشا ٹھاکر، ممبر اسمبلی مالنی گوڑ اور میئر پشیامتر بھارگو سمیت عوامی نمائندے اور بڑی تعداد میں شہری موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن