
عرس میں عقیدت مندوں کا رہا جم غفیر، ہر مذہب و ملت کے لوگوں نے بلا تفریق دی حاضریمسلمانوں کو خصوصاً تعلیم کے میدان میں سنجیدہ توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے: رکن پارلیمنٹ راج کمار چاہر صوفیائے کرام کا پیغام آفاقی ہے، جو محبت، رواداری اور انسانیت کی بنیادوں پر قائم ہے:پیر زادہ ارشد فریدی چشتی
نئی دہلی / فتح پور سیکری، آگرہ29 مارچ(ہ س)۔حضرت شیخ سلیم چشتی فاؤنڈیشن کے زیراہتمام منعقد ہونے والا رنگ صوفیانہ پروگرام اور 15 روزہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کا 456واں سالانہ عرس مبارک نہایت عقیدت، روحانیت اور شاندار انتظامات کے ساتھ کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا۔ اس بابرکت موقع پر ملک و بیرون ملک سے آئے زائرین اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے درگاہ شریف کا ماحول روحانی کیفیت، اخوت اور محبت کے جذبات سے لبریز رہا۔
مہمان خصوصی کے طور پر لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ راج کمار چاہر شریک ہوئے، جبکہ صدارت درگاہ کے سجادہ نشین پیرزادہ ارشد فریدی چشتی نے کی۔ عرس مبارک سجادہ نشین پیرزادہ عیاض الدین چشتی عرف رئیس میاں کی زیرسرپرستی نہایت وقار اور احترام کے ساتھ جاری رہا۔ اس موقع پر رکن پارلیمنٹ راج کمار چاہر اور اینکر شاذیہ علیم پیش پیش رہیں۔
اپنے خطاب میں راج کمار چاہر نے گنگا-جمنی تہذیب کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو خصوصاً تعلیم کے میدان میں سنجیدہ توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کی درگاہ سے ہمیشہ دعاؤں اور برکتوں کا فیض جاری رہا ہے اور رنگ صوفیانہ جیسے پروگرام بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
درگاہ کے سجادہ نشین پیرزادہ ارشد فریدی چشتی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ صوفیائے کرام کا پیغام آفاقی ہے، جو محبت، رواداری اور انسانیت کی بنیادوں پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ درگاہ صدیوں سے امن، محبت اور قومی یکجہتی کی علامت رہی ہے، جہاں ہر مذہب و ملت کے لوگ بلا امتیاز حاضری دیتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ رنگ صوفیانہ پروگرام کو مزید بہتر اور وسیع پیمانے پر منعقد کیا جائے گا۔
یہ 15 روزہ عرس مبارک مختلف روحانی، مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں پر مشتمل رہا، جن میں افتتاحی اجلاس، صوفی مذاکرہ، فاتحہ خوانی، محفل قوالی، چادر پوشی، ثقافتی تقاریب، عید ملن تقریب اور ایک شاندار آل انڈیا مشاعرہ شامل تھا۔ اس مشاعرے میں ملک کے نامور شعراء و شاعرات ، جس میں ملک کےعالمی شہرت یافتہ شعراء و شاعرات جس میں ڈاکٹر منظر بھوپالی کے علاوہ ڈاکٹر ماجد دیوبندی ، جناب معین شاداب، محترمہ وسیم راشد، ڈاکٹر مہتاب عالم، ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی، جناب عمر اظہر،جناب امیر اکبرآبادی،جناب النکرت شریواستو، جناب ابھشیک تیواری ملک، ڈاکٹر اندو گپتا، میناکشی ججویشا، بسمل فتح پوری، نظر فتح پوری اور پیکر نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ، جبکہ اینکر شاذیہ علیم نے اپنی دلکش آواز میں شعرا کا تعارف پیش کیا۔
مزید برآں، ڈاکٹر نیتا پانڈے اور سید ساحل آغا نے حضرت امیر خسروؒ، بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ اور کبیر داس کے کلام پر مبنی صوفیانہ داستان گوئی پیش کر کے حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ عرس مبارک کے موقع پر اس نوعیت کا ہمہ جہت صوفیانہ پروگرام منعقد کیا گیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا اور اسے گنگا-جمنی تہذیب کی خوبصورت مثال قرار دیا۔
واضح رہے کہ عرس مبارک کا آغاز 20 رمضان المبارک کو غسل مزار مبارک سے ہوا، جس کے بعد زائرین کو تبرکات مقدسہ کی زیارت کرائی گئی۔ جس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک،موئے مبارک(داڑھی کے بال)، حضرت غوث اعظم رحمة اللہ علیہ کا خرقہ مبارک(چوغہ مبارک)، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمة اللہ علیہ کا پٹکا شریف، نیز حضرت شیخ سلیم چشتی رحمة اللہ علیہ کی کلاہ مبارک کی شامل تھی۔
قل کی روح پرور رسم کے دوران عقیدت مندوں کا ایک عظیم الشان اور دیدہ زیب اجتماع دیکھنے میں آیا، جس میں ملک و بیرون ملک سے آئے ہوئے زائرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ درگاہ کے سجادہ نشین پیرزادہ ارشد فریدی چشتی نے رات 03:30 بجے درگاہِ شریف پر حاضری دے کر قل کی بابرکت رسم ادا کی۔اس موقع پر مختلف مذاہب و طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی، جو صوفیائے کرام کے آفاقی پیغامِ محبت، رواداری اور اخوت کا عملی مظہر ہے۔ قل کی رسم کے دوران صوفیائے عظام کو خصوصی تبرکات تقسیم کیے گئے، جبکہ ملک و عالم اسلام کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اجتماعی دعائیں بھی کی گئیں، اس روح پرور موقع پر عقیدت مندوں کا جم غفیر قل کے چھینٹوں کے حصول کے لیے نہایت پرجوش اور مشتاق نظر آیا۔ زائرین کے غیر معمولی ہجوم کے پیش نظر پولیس انتظامیہ کو سجادہ نشین کو درگاہ سے ان کے حجرے تک بحفاظت پہنچانے کے لیے سیکیورٹی حصار میں لینا پڑا تھا۔یہ روحانی اجتماع صوفیائے کرام کے آفاقی پیغامِ محبت، بھائی چارے اور بین المذاہب ہم آہنگی کا عملی مظہر ثابت ہوا اور بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کے فاتحہ کے ساتھ 15 روزہ عرس مبارک اختتام پذیر ہوا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan