
علی گڑھ, 27 مارچ (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے اپنے بانی سر سید احمد خان کی 128ویں برسی کے موقع پر انہیں بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر جامع مسجد میں قرآن خوانی کی گئی اور ان کی مزار پر گلہائے عقیدت پیش کئے گئے۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے حکام، عہدیداران، اساتذہ اور طلبہ موجود تھے۔
سر سید احمد خان کو تعلیمی اور سماجی تبدیلی کے ایک عظیم معمار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک ایسے دور میں سائنسی مزاج اور عقلی تحقیق کو فروغ دیا جب سماجی و سیاسی حالات میں گہری تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کے قیام کے ذریعے انہوں نے ایک ایسی تحریک کا آغاز کیا جس نے آگے چل کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل اختیار کی اور جس نے نسل در نسل اسکالرز، مفکرین اور قائدین پیدا کئے۔
تعلیم کے علاوہ ان کی خدمات میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا اور فکری بیداری پیدا کرنا بھی شامل ہے۔ روایت اور جدت کے امتزاج کا ان کا تصور آج بھی اے ایم یو کے تعلیمی اور ثقافتی مزاج کی بنیاد ہے۔
خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا کہ سر سید کی میراث آج بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے اور اداروں کو بامقصد علم کے حصول اور سماجی ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان نے کہا کہ جدید تعلیم اور ترقی پسند فکر پر سر سید کا زور آج بھی یونیورسٹی کے تعلیمی مشن اور اس کے دائرہ عمل کی رہنمائی کر رہا ہے۔
اے ایم یو رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر، پراکٹر پروفیسر محمد نوید خان، ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر اطہر انصاری، سی ای سی کوآرڈینیٹر پروفیسر ایم رضوان خان، دفتر رابطہ عامہ کی ممبر انچارج پروفیسر وبھا شرما، پرووسٹ سر سید ہال (جنوبی) ڈاکٹر عبدالرؤوف، پرووسٹ سر سید ہال (شمالی) ڈاکٹر محمد جہانگیر صابر خان، یونیورسٹی لائبریرین پروفیسر نشاط فاطمہ، رابطہ عامہ افسر مسٹر عمر پیرزادہ، فنانس آفیسر مسٹر نورالسلام سمیت دیگر عہدیداران نے بھی خراج عقیدت پیش کیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ