جموں و کشمیر اسمبلی کی کارروائی ہنگامہ آرائی کی نذر
جموں, 27 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر اسمبلی کا بجٹ اجلاس جمعہ کے روز پانچ ہفتوں کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوتے ہی ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کر دی گئی۔اجلاس کے آغاز کے فوراً بعد حکومتی اور اپو
Jk assembly


جموں, 27 مارچ (ہ س)۔

جموں و کشمیر اسمبلی کا بجٹ اجلاس جمعہ کے روز پانچ ہفتوں کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوتے ہی ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کر دی گئی۔اجلاس کے آغاز کے فوراً بعد حکومتی اور اپوزیشن بینچوں کے ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے، نعرے بازی کی اور سوالیہ وقفہ میں خلل ڈالا، حالانکہ اسپیکر عبدالرحیم راتھر کی جانب سے بار بار نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی جاتی رہی۔حکمران جماعت نیشنل کانفرنس، کانگریس، سی پی آئی (ایم)، آزاد اراکین اور اپوزیشن پی ڈی پی کے ارکان نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے، جبکہ بی جے پی اراکین نے جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کے مطالبے پر پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

واضح رہے کہ اسمبلی کا بجٹ اجلاس 27 مارچ کو پانچ ہفتوں کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا، جس کا پہلا مرحلہ 2 فروری سے 20 فروری تک جاری رہا تھا۔ پہلے مرحلے کے دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 6 فروری کو بجٹ پیش کیا تھا، جبکہ مختلف محکموں کے مطالبات زر پر تفصیلی بحث کے بعد منظوری دی گئی تھی۔موجودہ اجلاس 4 اپریل تک جاری رہے گا۔ ہاؤس بزنس شیڈول کے مطابق 30 مارچ اور یکم اپریل کو نجی اراکین کے بلز، جبکہ 31 مارچ اور 2 اپریل کو نجی اراکین کی قراردادوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande