
جموں, 27 مارچ (ہ س)۔
جموں و کشمیر اسمبلی میں جمعہ کے روز اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب کانگریس اور بی جے پی اراکین کے درمیان تلخ کلامی ہاتھا پائی میں بدل گئی، جس کے بعد ایوان کی کارروائی کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
اطلاعات کے مطابق کانگریس کے رکن اسمبلی عرفان حفیظ لون اور بی جے پی کے رکن اسمبلی یدھویر سیٹھی کے درمیان اس وقت جھڑپ ہوئی جب کانگریس اراکین نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس دوران بی جے پی رکن کی جانب سے راہل گاندھی کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے، جس سے صورتحال مزید بگڑ گئی۔بعد ازاں نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تنازع کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے وزیر اعظم کی جانب سے تمام وزرائے اعلیٰ کا اجلاس بلانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں اور تمام ریاستوں کو اعتماد میں لینا ایک اچھا قدم ہے۔
ادھر بی جے پی کے رکن اسمبلی سرجیت سنگھ سلاتھیا نے وزیر اعظم کی سفارتی حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بھارت مضبوط ہوا ہے اور ملک میں 70 دنوں کے لیے گیس اور پٹرول کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ انہوں نے بعض سیاسی جماعتوں پر الزام لگایا کہ وہ عوام میں غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر