
علی گڑھ, 27 مارچ (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ملاپورم سنٹر کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن نے ”کاروباری تحقیق میں اسمارٹ ڈیٹا سسٹم“کے موضوع پر ایک آن لائن قومی سیمینار منعقد کیا، جس میں تعلیم و صنعت کے ماہرین اور محققین نے کاروباری تحقیق میں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس کے بدلتے ہوئے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔
سیمینار کا آغاز پروگرام کنوینر مسٹر سید احمد سعد کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جس کے بعد شعبہ کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر حمزہ وی کے نے خطاب کیا۔ پروفیسر ایم شاہ الحمید، ڈائریکٹر، اے ایم یو ملاپورم سنٹر نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے معاصر تحقیق میں اسمارٹ ڈیٹا سسٹمز کی اہمیت اور پیشہ ورانہ ترقی میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی۔
تعلیمی نشستوں میں تحقیقی مقالوں کی پیشکش اور ماہرین کے خطبات شامل تھے، جن میں مصنوعی ذہانت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ آکاش اپادھیائے نے تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں اے آئی اینالیٹکس کے کردار پر گفتگو کی، جبکہ محمد عبداللہ خان نے ای کامرس میں صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے میں اس کے استعمال کا ایک جائزہ پیش کیا۔ سید صارم اکبر اور سیدہ فزّہ زہرہ نے بالترتیب انوینٹری مینجمنٹ میں اے آئی کے انضمام اور اینالیٹکس میں تنقیدی سوچ کی اہمیت پر اپنے خیالات پیش کیے۔ ڈاکٹر یشودھرا راج، آکانشا تیاگی اور ڈاکٹر ذہین انصاری نے تنظیمی رویے میں وسائل کے تحفظ کے تناظر پر مبنی ایک مطالعہ پیش کیا، جس کے بعد ابو اللیث نے تحقیقی معاون کے طور پر اے آئی کے ابھرتے ہوئے کردار پر اظہار خیال کیا۔
مسٹر نوید عمران (ای کلرکس)، ڈاکٹر وینو وی جی، ڈاکٹر وشنو سی راجن (آئی آئی ٹی تروپتی) اور ڈاکٹر کے ستھیش کمار، امیریٹس وزٹنگ پروفیسر، کیرالا ڈیجیٹل یونیورسٹی نے اے آئی پر مبنی اینالیٹکس، جنریٹیو اے آئی، لٹریچر ریویو، ببلیومیٹرک تجزیہ اور تحقیقی معاون کے طور پر اے آئی کے تصور پر خطبات دئے۔ آخر میں پروگرام کے شریک کنوینر مسٹر محمد یاشک پی نے اظہارِ تشکر کیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ