
پریاگ راج، 24 مارچ (ہ س)۔ اتر پردیش کے پریاگ راج ضلع میں کولڈ اسٹوریج حادثے کے سلسلے میں پولیس نے سابق وزیر انصار احمد اور کولڈ اسٹوریج منیجر کے خلاف پھاپھامو¿ پولیس اسٹیشن میں پیر کی دیر رات ایک کیس درج کیا ہے اور تحقیقات شروع کردی ہے۔ پولیس نے کچھ لوگوں کو حراست میں لے لیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
گنگا نگر کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس کلدیپ سنگھ گناوت نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایک کیس درج کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس نے بتایا کہ کولڈ اسٹوریج کے مالک انصار احمد، منیجر اور دیگر کے خلاف پیر کی رات دیر گئے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے تمام مزدوروں کے اہل خانہ سے درخواستیں وصول کرکے قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔
فوج بھی پیر کی شام دیر گئے پہنچی اور ملبہ ہٹانے کی کوششیں جاری ہیں۔ حادثے کے بعد سے کولڈ اسٹوریج کے مالک اور مینیجر کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔
انصار احمد کی کاروباری زندگی
انصار احمد کے مافیا سرغنہ عتیق احمد کے ساتھ دیرینہ تعلقات تھے۔ اتر پردیش میں عتیق احمد اپنا دل کے ریاستی صدر تھے۔ عتیق نے تانگہ چلانے والے انصار احمد کو غیر متوقع طور پرایم ایل اے کا ٹکٹ دیااور وہ اپنا دل کے پہلے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ تاہم، بعد میں انہوں نے سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور ایس پی کے ٹکٹ پر نواب گنج کا الیکشن لڑا ۔گرو پرساد موریہ کو شکست دے کر اسمبلی میں پھر سے منتخب ہوئے تو ملائم سنگھ یادو نے انہیں وزیر مقرر کیا۔ تاہم، وہ فی الحال ایم ایل اے نہیں ہیں۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد