تمل ناڈو انتخابات: کولاتھور اسمبلی حلقہ میں سہ رخی مقابلے کا امکان، ڈی ایم کے-اے آئی اے ڈی ایم کے-ٹی وی کے آمنے سامنے
چنئی، 24 مارچ (ہ س)۔ کولاتھور اسمبلی حلقہ، چنئی کا ایک ممتاز اور سیاسی لحاظ سے اہم حلقہ، فی الحال تمل ناڈو کی سیاست کا مرکز ہے۔ وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے حلقے کے طور پر اسے ریاست کی سب سے زیادہ زیر بحث سیٹوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ 2026 کے اسمب
تملناڈ


چنئی، 24 مارچ (ہ س)۔ کولاتھور اسمبلی حلقہ، چنئی کا ایک ممتاز اور سیاسی لحاظ سے اہم حلقہ، فی الحال تمل ناڈو کی سیاست کا مرکز ہے۔ وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے حلقے کے طور پر اسے ریاست کی سب سے زیادہ زیر بحث سیٹوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ 2026 کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر یہاں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔

کولاتھور اسمبلی حلقہ 2008 میں پرمبور اور ویلیوککم اسمبلی حلقوں کے کچھ حصوں کو ملا کر تشکیل دیا گیا تھا۔ یہ سیٹ 2011 کے اسمبلی انتخابات کا حصہ بنی، اس کے بعد سے و زیر اعلی ایم کے۔اسٹالن نے اسے مسلسل جیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ڈی ایم کے کا ”اسٹار حلقہ“ بھی کہا جاتا ہے۔

کولاتھور آئندہ انتخابات میں سہ رخی مقابلہ کے لیے تیار ہے۔ حکمراں دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) اتحاد، آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزگم (اے آئی ڈی ایم کے) کے زیرقیادت اتحاد، اور اداکار وجے کے تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے) نے مقابلہ کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔

یہ علاقہ چنئی کا ایک شہری اور مخلوط سماجی ڈھانچہ ہے، جس میں متوسط طبقے اور معاشی طور پر کمزور طبقات کی ایک بڑی آبادی ہے۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، چھوٹے تاجر اور اقلیتی برادری کے ووٹر یہاں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ درج فہرست ذاتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی بھی نمایاں موجودگی ہے۔

کولاتھور اسمبلی حلقہ میں تقریباً 2.08 لاکھ ووٹر ہیں، جن میں تقریباً 1 لاکھ مرد اور 1.08 لاکھ خواتین ووٹر شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ کا حلقہ ہونے کے باوجود بہت سے مقامی مسائل برقرار ہیں۔ ناقص سڑکیں، پانی کا ذخیرہ، اور سیوریج اور نکاسی کا ناقص نظام بڑے مسائل میں شامل ہیں۔ بارشوں کے موسم میں سیلاب اور نکاسی آب کا نظام نہ ہونے پر لوگوں نے مسلسل برہمی کا اظہار کیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انفراسٹرکچر میں بہتری کی ضرورت ہے اور مسائل مستقل طور پر حل نہیں ہوئے ہیں۔

دوسری جانب علاقے میں کئی ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ ان میں تالابوں کی بحالی، نئی سڑکوں کی تعمیر، پارکس، لائبریریز، منی اسٹیڈیم اور ہاو¿سنگ پروجیکٹس کی ترقی شامل ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں مسلسل ترقیاتی کام چل رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ترقیاتی کاموں میں تاخیر ہوئی ہے اور بہت سی اسکیموں کو موثر انداز میں نافذ نہیں کیا گیا ہے۔ وہ کچھ اسکیموں کی تاثیر پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔

حالانکہ کولاتھور کو ڈی ایم کے کا مضبوط اڈہ سمجھا جاتا ہے اور وزیر اعلیٰ ایم کے۔ اسٹالن کی پوزیشن یہاں مضبوط رہی ہے، اپوزیشن بھی اس بار پوری طاقت سے مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ آئندہ الیکشن میں سیٹ کی ممکنہ تبدیلی کی بھی بات کی جا رہی ہے جس سے سیاسی ہلچل پیدا ہو رہی ہے۔

دریں اثنا، تاملگا ویٹری کزگم بھی اپنے امیدواروں کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس سے مقابلہ مزید دلچسپ ہونے کی امید ہے۔

آئندہ 2026 کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر پورے تمل ناڈو کی نظریں کولاتھور سیٹ پر ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande