مدھیہ پردیش اسپیس ٹیک پالیسی-2026 سے خلائی ٹیکنالوجی کا اہم مرکز بنے گا: وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو
سرمایہ کاری، جدت طرازی اور اسٹارٹ اپ کو ملے گا فروغ، نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع کھلیں گے بھوپال، 22 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ ریاست کو اسپیس ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرکردہ ریاست کے طور پر قائم کرنے کے مق
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو (فائل فوٹو)


سرمایہ کاری، جدت طرازی اور اسٹارٹ اپ کو ملے گا فروغ، نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع کھلیں گے

بھوپال، 22 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ ریاست کو اسپیس ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرکردہ ریاست کے طور پر قائم کرنے کے مقصد سے ریاستی حکومت نے ’مدھیہ پردیش اسپیس ٹیک پالیسی-2026‘ نافذ کی ہے۔ یہ پالیسی اسپیس ٹیک میں جدت طرازی، مینوفیکچرنگ، تحقیق اور ٹیکنالوجی پر مبنی ایپلی کیشنز کو فروغ دے کر ریاست کو ہندوستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی خلائی معیشت کا اہم مرکز بنائے گی۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اتوار کو جاری اپنے پیغام میں کہا کہ عالمی سطح پر خلائی معیشت تیزی سے پھیل رہی ہے اور ہندوستان اس شعبے میں نئے امکانات کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ مدھیہ پردیش اپنی مضبوط صنعتی ساخت، معتبر تعلیمی اداروں، ڈیفنس کوریڈور اور ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کی وجہ سے اسپیس ٹیک سرمایہ کاری کے لیے ایک سازگار اور پرکشش مقام بن رہا ہے۔ یہ پالیسی ریاست کے سائنسی اور فلکیاتی ورثے کو مستقبل کے تکنیکی نقشِ قدم میں بدلنے کی ایک دور اندیش کوشش ہے، جو نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی اور ریاست کو اسپیس ٹیک سیکٹر میں نئی پہچان دلائے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسپیس ٹیک پالیسی-2026 خلائی شعبے کے اپ اسٹریم، مڈ اسٹریم اور ڈاون اسٹریم تمام شعبوں کی ترقی کا جامع روڈ میپ پیش کرتی ہے۔ اس میں سیٹلائٹ اور لانچ وہیکل کے پرزوں کی تیاری، پروپلشن سسٹم، ایویونکس، ایڈوانس میٹریریل، اسمبلی-انٹیگریشن-ٹیسٹنگ، مشن آپریشنز، گراونڈ اسٹیشن، اسپیس سچویشنل اویئرنس اور اے آئی پر مبنی ڈیٹا اینالیٹکس جیسے شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ پالیسی کے تحت جدید مینوفیکچرنگ، ٹیسٹنگ اور ڈیٹا انفراسٹرکچر تیار کیا جائے گا اور نوجوانوں کو خصوصی تربیتی پروگراموں کے ذریعے اسپیس ٹیک سیکٹر کے لیے تیار کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ پالیسی کے تحت ’اسپیس ٹیک سینٹر آف ایکسی لینس‘ قائم کیا جائے گا، جہاں تحقیق، جدت طرازی، پروٹو ٹائپ کی تیاری اور اسٹارٹ اپ انکیوبیشن کو فروغ ملے گا۔ ساتھ ہی ’سمال سیٹ ڈیجیٹل ٹوئن لیب اینڈ اسپیس انوویشن سینڈ باکس‘ جیسی جدید سہولیات بھی تیار کی جائیں گی۔ اجین میں فلکی طبیعیات (ایسٹرو فزکس) اور خلائی سائنس کے لیے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر قائم کر کے ریاست کے سائنسی ورثے کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑا جائے گا۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اس پالیسی میں اسٹارٹ اپس کو 75 لاکھ روپے تک ’آئیڈیا ٹو پروٹو ٹائپ‘ گرانٹ، ایک کروڑ روپے تک ٹیکنالوجی کے حصول میں امداد اور 200 کروڑ روپے کا اسٹریٹجک فنڈ، ریاستی شراکت داری فنڈ سے فراہم کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ایک پیٹنٹ پر 50 فیصد واپسی، ٹیسٹنگ کی سہولیات کے لیے ایک کروڑ روپے تک امداد اور اسرو، ’ان-اسپیس‘ اور آئی ایس او سرٹیفیکیشن کے لیے 75 فیصد واپسی (زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے) کا انتظام کیا گیا ہے۔ ڈیزائن لنکڈ انسینٹیو اور انکیوبیشن کی سہولیات کے لیے بھی خصوصی مراعات دی جائیں گی۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اسپیس ٹیک سیکٹر میں اہل انسانی وسائل تیار کرنے کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں خصوصی کورسز شروع کیے جائیں گے۔ اس کے لیے 20 لاکھ روپے تک کی گرانٹ دی جائے گی۔ طلبہ کو 6 ماہ تک 10 ہزار روپے ماہانہ اسٹائپنڈ کے ساتھ انٹرنشپ کے مواقع ملیں گے۔ ساتھ ہی ملازمین کی مہارت بڑھانے کے لیے 50 ہزار روپے تک امداد اور محققین کے لیے اسپیس ٹیک فیلو شپ کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ پالیسی میں اسپیس ٹیک صنعتوں کو 40 فیصد تک کیپیٹل گرانٹ (زیادہ سے زیادہ 150 کروڑ روپے) دی جائے گی۔ خواتین کاروباریوں کو اضافی مراعات بھی ملیں گی۔ اسپیس سسٹم اینڈ ایپلی کیشن پارک، ٹیسٹنگ لیبارٹریز، کلین روم اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ پر مبنی ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ ٹیسٹنگ کی سہولیات کے لیے 15 کروڑ روپے تک گرانٹ اور اسٹارٹ اپ و ایم ایس ایم ای کو ٹیسٹنگ کی لاگت پر 30 فیصد تک واپسی بھی دی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسپیس ٹیک کی طرف دلچسپی بڑھانے کے لیے ’انترکش ویہار‘ اسپیس ایکسپلوریشن پارک قائم کیا جائے گا۔ ’مشن کلپنا‘ کے تحت اسکول کے طلبہ میں جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اسرو کے نوجوان سائنسداں پروگرام (یوویکا) میں طلبہ کی شرکت بڑھانے کے لیے تعاون دیا جائے گا اور منتخب طلبہ کو 25 ہزار روپے کی حوصلہ افزائی رقم بھی فراہم کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ پالیسی کے نفاذ کے لیے ایم پی ایم ای ڈی سی کو نوڈل ایجنسی بنایا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں اور اسٹارٹ اپس کو سنگل ونڈو کلیئرنس، آن لائن رجسٹریشن اور سادہ طریقہ کار کے ذریعے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسپیس ٹیک پالیسی-2026 ریاست میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے، صنعتوں کو نئی رفتار دینے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande