
سڈنی، 20 مارچ (ہ س)۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز اور وزیر داخلہ ٹونی برک کو مغربی سڈنی کی ایک مسجد میں عید کی تقریب کے دوران احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ لاکیمبا میں منعقدہ اس تقریب میں کچھ لوگوں نے اسرائیل -غزہ کے معاملے پر حکومتی موقف کے خلاف نعرے لگائے اور دونوں رہنماو¿ں کو باہر نکالنے کا مطالبہ کیا جب کہ وہاں موجود لوگوں کی بڑی تعداد نے ان کی حمایت بھی کی۔
آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) اور مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق، آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز اور وزیر داخلہ ٹونی برک کو جمعہ کو مغربی سڈنی میں عید کی تقریب کے دوران احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ لاکیمبا کی ایک مسجد میں پیش آیا جہاں کچھ لوگوں نے نماز کے بعد قائدین کے خلاف نعرے لگائے۔
نماز عید کے بعد جب اجتماع سے خطاب کیا جا رہا تھا تب ہی کچھ لوگ البانیز اور ٹونی برک کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے انہیں وہاں سے نکالنے کا مطالبہ کرنے لگے ۔ مظاہرین نے بین الاقوامی مسائل بالخصوص اسرائیل- غزہ تنازعہ پر دونوں رہنماو¿ں کے موقف پر برہمی کا اظہار کیا۔
حالانکہ پروگرام میں موجود بڑی تعداد میں لوگوں نے وزیر اعظم اور مقامی رکن پارلیمنٹکا استقبال بھی کیا۔ منتظمین نے ہجوم سے امن برقرار رکھنے کی اپیل بھی کی، جس کے بعد تقریب جاری رہی۔
وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اس واقعے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریب میں 30,000 سے زائد افراد نے شرکت کی اور زیادہ تر لوگ کا رویہ مثبت تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف چند لوگوں نے احتجاج کیا جسے کمیونٹی نے خود سنبھالا۔
مسجد کو چلانے والی تنظیم نے رہنماو¿ں کو مدعو کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک رسمی موجودگی نہیں ہے بلکہ کمیونٹی کے تحفظات کو براہ راست حکومت تک پہنچانے کا ایک موقع بھی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد