
ممبئی ، 17 مارچ (ہ س)۔ مہاراشٹر حکومت نے غیر قانونی طور پر رہنے والے غیر ملکی شہریوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے ’ڈائنامک امیگریشن سسٹم‘ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ایسے افراد کی فوری نشاندہی کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اسمبلی میں کہا کہ یہ نظام خاص طور پر ان غیر ملکیوں پر نظر رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جو ویزا ختم ہونے کے باوجود ملک میں قیام کرتے ہیں اور بعض صورتوں میں ڈرگ اسمگلنگ میں ملوث ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ وضاحت بی جے پی رکن اسمبلی سنیہا دوبے کے سوال کے جواب میں دی، جس میں ریاست میں منشیات کے پھیلاؤ کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔فڑنویس نے بتایا کہ کئی نائجیریائی شہری تعلیم یا طبی ویزا پر آ کر بعد میں معمولی جرائم میں خود کو ملوث کرتے ہیں تاکہ قانونی کارروائی مکمل ہونے تک ملک میں قیام جاری رکھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ اب ایسے مقدمات واپس لے کر متعلقہ افراد کو فوری طور پر ان کے ملک بھیجنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اب تک 68 افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے جبکہ 122 افراد ڈٹینشن سینٹر میں ہیں۔پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ مشتبہ افراد کے پاسپورٹ اور ویزا کی مکمل جانچ کی جائے اور دستاویزات نہ ہونے کی صورت میں انہیں فوری طور پر حراست میں لیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ امیگریشن اور پولیس کے درمیان ایک مربوط نظام قائم کیا جا رہا ہے جس سے ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی رہنے والوں کی فوری معلومات حاصل کی جا سکے گی۔حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بغیر درست دستاویزات والے غیر ملکیوں کو رہائش فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔فڑنویس نے کہا کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف ’مکوکا‘ کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی اور ایسے عناصر کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ منشیات کے استعمال والے مقامات پر چھاپے مارے جائیں گے اور بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے لائسنس مستقل طور پر منسوخ کیے جائیں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے جرائم میں ملوث پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر ملازمت سے نکال دیا جائے گا اور اعلیٰ افسران کی ذمہ داری بھی طے کی جائے گی۔اس بحث کے دوران نانا بھاؤ پٹولے، ہیمنت اوگلے، ڈاکٹر راہل پاٹل اور ولاس تارے نے بھی اپنی رائے پیش کی۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے