
کولکاتا، 17 مارچ (ہ س)۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ریاست میں انتخابی عمل کے اعلان کے بعد سینئر انتظامی افسران کے تبادلے پرہندوستان کے انتخابی کمیشن کو خط لکھا ہے اوراپنا اعتراض ظاہر کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ خط چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بھیجا ہے، جس میں انہوں نے ریاستی انتظامیہ کے کئی سینئر افسران کو اچانک ہٹانے کے فیصلے پر تشویش اور حیرت کا اظہار کیا ہے۔خط میں، ممتا بنرجی نے لکھا کہ ریاستی انتظامیہ کے کئی اعلیٰ عہدیداروں- چیف سکریٹری، داخلہ اور پہاڑی امور کے سکریٹری، پولیس کے ڈائریکٹر جنرل اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کا 15 اور 16 مارچ کو جاری کردہ احکامات کے تحت تبادلہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر کئے گئے ان تبادلوں کے پیچھے کوئی ٹھوس وجہ یا انتخابات سے متعلق کسی طرح کی شکایت یا الزام کا ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے خط میں یہ بھی کہا کہ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 324 اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعات کے تحت انتخابی عہدیداروں کو انتخابی مدت کے دوران الیکشن کمیشن کے ماتحت تصور کیا جاتا ہے اور کمیشن کو ان کے تبادلے یا تقرری کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ گزشتہ انتخابات کے دوران، کمیشن نے ایسے فیصلے کرتے وقت عام طور پر ریاستی حکومت سے مشورہ کرتا رہا ہے ۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ روایتی طور پر کمیشن ریاستی حکومت سے تین عہدیداروں کا ایک پینل طلب کرتا تھا اور پھر ان میں سے ایک کو منتخب کرکے اس عہدے پر مقرر کرتا تھا۔ لیکن اس بار کئی سینئر عہدیداروں کو ریاستی حکومت سے پوچھے بغیر بھی ہٹا دیا گیا۔
انہوں نے خط میں یہ بھی کہا کہ اسمبلی انتخابات کے اعلان کے چند گھنٹوں کے اندر ریاست کے انتظامی نظام کے اعلیٰ عہدیداروں کو ہٹانا تشویشناک ہے اور یہ قائم شدہ انتظامی روایات سے الگ قدم ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے خط میں یہ بھی کہا کہ اس طرح کے یکطرفہ فیصلے وفاقی ڈھانچے اور تعاون پر مبنی وفاقیت کے جذبے کو کمزور کرتے ہیں، جو ہندوستانی جمہوری نظام کی ایک اہم بنیاد ہے۔
خط کے آخر میں انہوں نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے یکطرفہ اقدامات سے گریز کرے کیونکہ اس سے کمیشن کی ساکھ اور ادارہ جاتی وقار متاثر ہو سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد