
توانائی بحران اور ایندھن کی قلت کے خدشات پر سپریا سولے کا اظہارِ تشویش، پارلیمنٹ میں بحث کرانے کی اپیلممبئی، 16 مارچ (ہ س)۔ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے کہا ہے کہ اس صورتحال کے بھارت پر ممکنہ اثرات پر پارلیمنٹ میں فوری بحث ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق توانائی سلامتی اور معیشت پر اس کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پونے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اہم مسئلے پر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایک آل پارٹی میٹنگ بلائی جائے تاکہ موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنائی جا سکے۔سپریا سولے نے کہا کہ خلیجی تنازع کے باعث دنیا بھر میں معاشی، سماجی اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق عالمی توانائی نظام پر اس کے اثرات واضح ہیں اور اس کا اثر عام لوگوں تک بھی پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت صورتحال کی سنجیدگی کو پوری طرح تسلیم نہیں کر رہی اور ملک میں ایندھن کی ممکنہ قلت کے خدشات کو نظر انداز کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ سیاست سے بالاتر ہے اور اس وقت قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اس بحران کے دوران حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ حقائق کو شفاف انداز میں پیش کرے اور اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر فیصلہ سازی کرے۔سپریا سُلے نے ایندھن اور کھاد کی فراہمی کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے اور کہا کہ عالمی حالات کے باعث ایندھن کی قلت کا خطرہ بڑھ رہا ہے جبکہ بھارت میں کسان پہلے ہی کھاد کی کمی سے پریشان ہیں۔ انہوں نے حکومت کے 8000 کروڑ روپے کے گرین امونیا منصوبے، نینو فرٹیلائزر پروگرام اور نامیاتی کاشتکاری سے متعلق پالیسیوں کے نتائج کے بارے میں بھی سوال اٹھایا۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے