
نئی دہلی، 16 مارچ (ہ س)۔ پٹیالہ ہاو¿س کورٹ کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پیتامبر دت نے لال قلعہ دھماکہ معاملے میں گرفتار طفیل احمد بھٹ اور ضمیر احمد اہنگر کو 15 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ دونوں ملزمین کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی حراست کی مدت پیر کو ختم ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے 11 مارچ کو دونوں ملزمین کو آج تک این آئی اے کی تحویل میں دے دیاتھا۔ 25 فروری کو جموں و کشمیر پولیس دونوں ملزمان کو پروڈکشن وارنٹ پر دہلی لائی تھی۔ تب سے وہ این آئی اے کی حراست میں تھے۔ این آئی اے کے مطابق ضمیر احمد کو عمر النبی، مفتی عرفان اور ڈاکٹر عادل احمد راٹھر نے رائفل، پستول اور زندہ گولہ بارود فراہم کیا تھا۔ دونوں ملزمان کا تعلق دہشت گرد گروپ انصار غزوة الہند سے ہے۔
این آئی اے کے مطابق 10 نومبر 2025 کو لال قلعہ کے باہر کار بم دھماکہ کی منصوبہ بندی عمر النبی نے کی تھی۔ عمر النبی موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ دھماکے میں 15 افراد ہلاک اور دو درجن کے قریب زخمی ہوئے۔ این آئی اے نے ملزم دانش کو سری نگر سے گرفتار کیا تھا۔
این آئی اے کے مطابق دانش نے ڈرون میں تکنیکی تبدیلیاں کیں اور کار بم دھماکے سے قبل راکٹ تیار کرنے کی کوشش کی۔ دانش نے عمر النبی کے ساتھ مل کر پوری سازش کو عملی جامہ پہنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پولیٹیکل سائنس کے گریجویٹ دانش کو عمر نے خودکش بمبار بننے کے لیے برین واش کیا۔ وہ اکتوبر 2024 میں کولگام کی ایک مسجد میں ڈاکٹر ماڈیول سے ملنے کے لئے تیار ہوا، جہاں سے اسے فرید آباد، ہریانہ میں الفلاح یونیورسٹی میں قیام کے لیے لے جایا گیا۔
لال قلعہ کے قریب 10 نومبر 2025 کو ایک آئی -10 کار میں دھماکہ ہوا۔ یہ گاڑی عامر رشید علی کے پاس رجسٹرڈ تھی۔ دھماکے میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد