
نئی دہلی، 12 مارچ (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے مذہب کے نام پر مندروں میں جانوروں کی بلی دینے پر پابندی لگانے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے ایک ماہ بعد کیس کی اگلی سماعت کا حکم دیا۔
وکیل شروتی بشت نے درخواست میں کہا ہے کہ مندروں میں جانوروں کی بلی دینے ( قربانی کرنے ) کے معاملے پر حکومت اور انتظامیہ مکمل طور پر خاموش ہے۔ درخواست میں جانوروں پر ظلم کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 28 میں ضروری ترمیم کرکے مذہب کے نام پر جانوروں کی قربانی پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ دفعہ 28 میں کہا گیا ہے کہ مذہبی رسومات کے مطابق جانور کی قربانی کرنا جرم نہیں ہے۔
درخواست میں مذہبی تہواروں کے دوران جانوروں کے ذبح پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جانوروں کی قربانی کا رواج اس وقت بالی، انڈونیشیا، ہندوستان کے ہمالیائی خطہ، شمال مشرقی ہندوستان، اڈیشہ، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور جنوبی ریاستوں میں جاری ہے۔ پٹیشن میں اس مسئلے پر ایک مربوط نقطہ نظر کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس میں مضبوط قانون سازی اور این جی اوز کے تعاون سے عوامی بیداری کی مہمات شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد