راہل گاندھی نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ مسئلہ حل ہو بھی جائے تو گیس بحران ختم نہیں ہوگا۔
نئی دہلی، 12 مارچ (ہ س)۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جمعرات کو مغربی ایشیا میں جاری جنگ سے پیدا ہونے والے گیس سلنڈر کے بحران پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسئلہ ایران کی سطح پر حل ہو جائے تب بھی بحران ختم نہیں ہوگا، کیونکہ دنیا بدل ر
گیس


نئی دہلی، 12 مارچ (ہ س)۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جمعرات کو مغربی ایشیا میں جاری جنگ سے پیدا ہونے والے گیس سلنڈر کے بحران پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسئلہ ایران کی سطح پر حل ہو جائے تب بھی بحران ختم نہیں ہوگا، کیونکہ دنیا بدل رہی ہے اور اس کا ڈھانچہ بدل رہا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ اگر ہم مرکز میں بھارت کے ساتھ کام نہیں کریں گے تو مسئلہ مزید گہرا ہو گا۔

راہل گاندھی نے پارلیمنٹ ہاو¿س کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ ملک میں ایل پی جی اور تیل کا بحران ابھی شروع ہوا ہے۔ انہوں نے ایوان میں بولنے کی خواہش ظاہر کی لیکن نئے طریقہ کار کی وجہ سے انہیں موقع دینے سے انکار کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب وزرا پہلے فیصلہ کریں گے، پھر وہ بولیں گے، اور پھر وزراءجواب دیں گے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ گیس، پیٹرول، اور تمام ایندھن ایک مسئلہ بننے جا رہے ہیں کیونکہ ہماری توانائی کی سلامتی سے سمجھوتہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تیاریوں کی ضرورت ہے، ہمارے پاس ابھی بھی وقت ہے۔ وزیراعظم اور حکومت فوری طور پر اس بحران پر قابو پانے کی تیاری شروع کر دیں۔ اگر تیاریاں نہ کی گئیں تو لاکھوں لوگ نقصان اٹھائیں گے۔ یہ مسئلہ صرف ایران سے ایندھن لینے یا نہ لینے سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ، ہم ایک غیر مستحکم دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ ایسے وقت میں پرانی سوچ کام نہیں کرے گی، ہمیں نئی سوچ کو اپنانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وہ کوئی سیاسی بیان نہیں دے رہے ہیں، بلکہ وہ ایک بڑے مسئلے کو سامنے آتے دیکھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم ہندوستان کی حفاظت اور توانائی کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ راہل نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن وہ خود گھبراہٹ کا شکار ہیں، اور اسی وجہ سے وہ ایوان میں حاضری سے قاصر ہیں۔ وزیر اعظم ملک کو بتا رہے ہیں کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، جب کہ وہ خود مختلف وجوہات کی بنا پر گھبرائے ہوئے ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande