جموں و کشمیر عدالت عالیہ نے ایک عرضی پر یو ٹی انتظامیہ سے جواب طلب کیا۔
جموں, 24 فروری (ہ س)جموں و کشمیر اور لداخ کی عدالت عالیہ نے پبلک سروس گارنٹی ایکٹ 2011 کے مؤثر نفاذ سے متعلق دائر مفادِ عامہ کی عرضی پر یونین ٹیریٹری انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ یہ مفادِ عامہ کی عرضی معروف ماحولیاتی و سماجی
Jk Highcurt


جموں, 24 فروری (ہ س)جموں و کشمیر اور لداخ کی عدالت عالیہ نے پبلک سروس گارنٹی ایکٹ 2011 کے مؤثر نفاذ سے متعلق دائر مفادِ عامہ کی عرضی پر یونین ٹیریٹری انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔

یہ مفادِ عامہ کی عرضی معروف ماحولیاتی و سماجی کارکن شیخ غلام رسول کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مختلف سرکاری محکمے مذکورہ قانون پر عمل درآمد میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ درخواست گزار کے مطابق متعدد سرکاری ہدایات اور سرکلرز کے باوجود محکمہ داخلہ، محکمہ مال اور محکمہ ٹرانسپورٹ سمیت کئی ادارے قانون کے تحت لازمی معائنوں، آگاہی پروگراموں اور عائد کردہ جرمانوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔

معاملے کی سماعت پیر کے روز سرینگر میں ورچوئل طریقہ کار کے تحت چیف جسٹس ارون پلی اور جسٹس رجنییش اوسوال پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ حقِ معلومات قانون کے تحت حاصل کردہ جوابات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے پاس لازمی تربیتی پروگراموں، آگاہی مہمات اور معائنوں سے متعلق اخراجات کا کوئی باضابطہ ریکارڈ موجود نہیں۔ مزید 2012 میں قائم کیا گیا پبلک سروس مینجمنٹ سیل بھی رولز کے رول 17 کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں ناکام رہا ہے۔

درخواست گزار کی نمائندگی ایڈوکیٹ نوید بخیتیار نے کی، جبکہ ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل حکیم امان علی نے یونین ٹیریٹری انتظامیہ کی جانب سے نوٹس قبول کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کی۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت 4 مارچ کو مقرر کر دی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande