موسمیاتی کارروائی ہندوستان کی ترقی کے لیے اسٹریٹجک موقع : نائب صدر جمہوریہ
نئی دہلی، 9 جنوری (ہ س)۔ نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ آب و ہوا سے متعلق کارروائی ہندوستان کی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ جامع ترقی کو تیز کرنے، توانائی کی حفاظت کو مضبوط کرنے اور مستقبل کے لیے تیار معیشت کی تعمیر کا ایک اسٹریٹجک موقع ہے۔
Vice-President-Radhakrishnan-Bharat-Climate-Forum


نئی دہلی، 9 جنوری (ہ س)۔ نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ آب و ہوا سے متعلق کارروائی ہندوستان کی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ جامع ترقی کو تیز کرنے، توانائی کی حفاظت کو مضبوط کرنے اور مستقبل کے لیے تیار معیشت کی تعمیر کا ایک اسٹریٹجک موقع ہے۔ نائب صدر جمہوریہ نے یہ بات جمعہ کو یہاں منعقدہ انڈیا کلائمیٹ فورم 2026 کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے بین الاقوامی اقتصادی مفاہمت کی کونسل کو تنقیدی عکاسی اور بامعنی کارروائی کے لیے ایک قومی پلیٹ فارم کے طور پر تیار کرنے کے لیے سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آب و ہوا اور پائیداری کے بارے میں ہندوستان کا نقطہ نظر اس کے تہذیبی شعور میں بہت گہرا ہے۔ جدید دور میں موسمیاتی تبدیلی کے موضوع بحث بننے سے بہت پہلے، ہندوستانی روایات نے انسان اور فطرت کے درمیان توازن پر زور دیا، جو پانی کے تحفظ کے روایتی نظام، پائیدار زرعی طریقوں، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور اخلاقی اصولوں جیسے فطرت سے عقیدت اور غیر ملکیت میں جھلکتی ہے۔

گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان کے ترقی کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان نے ترقی اور شمولیت، موجودہ ضروریات اور مستقبل کی ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی مسلسل کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں، ہندوستان نے ایک ترقی پذیر ملک کے طور پر اپنی آب و ہوا کی ذمہ داری کو پورا کرنے کے انداز کو نئے سرے سے متعین کیا ہے۔

سی او پی -6 2میں اعلان کردہ ہندوستان کے ' ’پنچامرت‘ وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے، نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ یہ اہداف سال 2070 تک نیٹ -زیرو اخراج کو حاصل کرنے سمیت کم کاربن کے مستقبل کے لیے ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتے ہیں ۔ یہ ہندوستان کی ترقی کی ترجیحات اور آنے والی نسلوں کے لیے ذمہ داری کا خاکہ بھی پیش کرتے ہیں۔

دیسی ساختہ ماحول دوست ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ترقی وکست بھارت کی تعمیر صرف درآمدی ٹیکنالوجی یا کمزور سپلائی چین سے ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے گھریلو صاف ٹیکنالوجی، مضبوط مینوفیکچرنگ صلاحیتوں اور مستقبل کے لیے تیار افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان قابل تجدید توانائی، توانائی ذخیرہ کرنے، گرین ہائیڈروجن، برقی نقل و حرکت، پائیدار مواد، آب و ہوا سے متعلق اسمارٹ زراعت اور ڈیجیٹل آب و ہوا کے حل جیسے شعبوں میں ایک عالمی صنعت کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے '’میک ان انڈیا ‘کو '’میک ان انڈیا فار دی ورلڈ‘ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستانی کمپنیاں سولر ماڈیولز، بیٹری مینوفیکچرنگ، الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات، الیکٹرولائزرز اور سبز ایندھن میں بڑی سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جب کہ اسٹارٹ اپ موسمیاتی ڈیٹا، توانائی کی کارکردگی اور فضلہ کے انتظام جیسے شعبوں میں اختراع کر رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande