
سڈنی، 6 جنوری (ہ س)۔ ایلیس مرٹینز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے منگل کو وکٹوریہ ایمبوکو کو 6-3، 3-6، 6-3 سے ہرا کر یونائیٹڈ کپ ٹینس ٹورنامنٹ میں بیلجیئم کی کینیڈا کے خلاف فتح کو یقینی بنا دیا۔ یہ میچ دو گھنٹے پانچ منٹ تک جاری رہا۔
اس سے قبل، جیزو برگس نے عالمی نمبر 5 فیلکس آگر-الیاسائم کو 6-4، 6-2 سے ہرا کر بیلجیم کو کوارٹر فائنل کے بہت قریب پہنچا دیا۔حالانکہ ٹائی جیتنے کے باوجودبیلجیئم کو ناک آؤٹ میں آگے بڑھنے کے لیے کلین سویپ کی ضرورت ہے۔ اگر کینیڈا مکسڈ ڈبلز جیتتا ہے تو وہ اگلے راؤنڈ میں پہنچ جائے گا۔
مرٹینز کی مضبوط سرو فیصلہ کن ثابت ہوئی
مرٹینز نے پہلا سیٹ اپنی طاقتور سروس کے بل بوتے پر جیتا۔ انہوں نے شروعاتی چار سروس گیمز میں ایک بھی پوائنٹ کھوئے بغیر ہولڈ کیا اور چھٹے گیم میں ایمبوکو کی سرو کو توڑ کر برتری حاصل کی۔ اگرچہ ایمبوکو نے زبردست جذبے کا مظاہرہ کیا اور دوسرے سیٹ میں واپسی کی، لیکن فیصلہ کن سیٹ میں مرٹینزنے دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔
چوتھے گیم میں 0-30 سے پیچھے رہنے کے باوجود مرٹینز نے بریک حاصل کیا اور آخر تک برتری کو برقرار رکھا۔ ڈبلیو ٹی اے کے مطابق، مرٹینز نے میچ میں اپنے پہلے سرو پوائنٹس کا 93 فیصد جیتا، جو ان کی جیت کا ایک اہم عنصر رہا۔
برگس نے بڑا اپ سیٹ کیا
اس سے قبل مینز سنگلز میں جیری برگس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیلکس آگر-الیاسائم کو 1 گھنٹہ 28 منٹ میں شکست دی۔ یہ برگس کی دوسری ٹاپ 10 جیت تھی۔ اس سے قبل انہوں نے 10 ماہ قبل میامی میں اس وقت کے عالمی نمبر 9 آندرے روبلیو کو شکست دی تھی۔
میچ کے بعد برگس نے کہا’’میں توبھول ہی گیا تھا کہ یہ میری دوسری ٹاپ 10 جیت ہے ۔یہ واقعی بہت بڑی بات ہے، خاص طور پر جس طرح سے میں نے کھیلا۔ اس فارمیٹ میں ابھی ہمیں اور میچ جیتنے ہیں، اس لیے میں صرف کام کرنے پر توجہ مرکوز کر رہا تھا۔‘‘
آگر -الیاسائم کی غیر موثر کارکردگی
حالانکہ آگر-الیاسائم نے 2025 میں اپنے کیریئر کا بہترین سیزن کھیلاتھا، جس میں وہ یو ایس اوپن کے سیمی فائنل تک پہنچے اور نٹو اے ٹی پی فائنلز میں بھی کھیلے۔ انہوں نے اپنے سیزن کے پیلے میچ میں جھانگ کے خلاف زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لیکن وہ برگس کے خلاف اس فارم میں نظر نہیں آئے۔ خاص طور پر، برگس نے میچ میں سامنا کرنے والے پانچوں بریک پوائنٹس کو بچا لیا۔
گروپ کی فاتح اور کوارٹر فائنل میں جگہ کا فیصلہ اب مکسڈ ڈبلز میچ سے ہوگا، جس پر سب کی نگاہیں مرکوز رہیں گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد