
خوابوں کی دوڑ میں جونیئر نیشنل کھو کھو کے ستارے، کوئی مزدور کا بیٹا تو کوئی گھریلو ملازمہ کی بیٹی
نئی دہلی، 03 جنوری (ہ س)۔ کھو کھو کے میدان پر جب کھلاڑی دوڑتے ہیں، تو ان کے ساتھ صرف رفتار نہیں ہوتی-ان کے خوابوں، جدوجہد اور خاندانوں کی امیدیں بھی دوڑتی ہیں۔ 44 ویں جونیئر نیشنل کھو کھو چیمپئن شپ میں حصہ لے رہے ملک کے مختلف علاقوں سے آئے یہ کھلاڑی ثابت کر رہے ہیں کہ محدود وسائل کبھی بڑے خوابوں کی راہ نہیں روک سکتے۔
جموں و کشمیر کے بین الاقوامی سرحد سے متصل آر ایس پورہ علاقے کے ہری پور گاوں کی 14 سالہ نویا نے بنگلورو کے گنجور تک 2,700 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر صرف ایک خواب کے لیے کیا-ہندوستان کی نمائندگی کرنے کا خواب۔ ان کی ماں بھارتی دیوی ایک گھریلو ملازمہ ہیں اور مہینے میں محض 5,000 روپے کماتی ہیں، جبکہ ان کے والد سبھاش چندر ذہنی صحت کے مسائل سے پریشان ہیں۔
نویا نے کہا، ”میری ماں چاہتی ہیں کہ میں پڑھائی اور کھو کھو دونوں کبھی نہ چھوڑوں۔ میں نازیہ بی بی کی طرح ہندوستان کے لیے کھیلنا چاہتی ہوں۔“
جموں کے تالی موڑ کے رہنے والے 15 سالہ کمل پہلی بار نیشنل سطح پر کھیل رہے ہیں۔ تین سال پہلے بیماری کے سبب انہوں نے اپنے والد کو کھو دیا۔ اب ان کی ماں پروین کماری، جو ایک کافی شاپ میں کام کرتی ہیں، پورے خاندان کی ذمہ داری سنبھال رہی ہیں۔
کمل نے کہا، ”میں اسپورٹس کوٹے سے سرکاری نوکری پا کر اپنی ماں کا سہارا بننا چاہتا ہوں اور نشے سے دور رہنا چاہتا ہوں۔“
جے پور کی 12 سالہ رچنا سنگھ پہلی بار جونیئر نیشنلز میں حصہ لے رہی ہیں۔ ان کے والد بس آپریٹر کے آفس میں کام کرتے ہیں اور آمدنی مستقل نہیں ہے۔
رچنا نے کہا، ”میں چار سال سے کھو کھو کھیل رہی ہوں اور اگلے ورلڈ کپ میں ہندوستان کے لیے کھیلنا چاہتی ہوں۔“
وہیں، راجستھان کے کیکڑی گاوں کے 18 سالہ دیو راج مالی، ایک چھوٹے کسان کے بیٹے ہیں۔ ان کے والد اجمیر میں پریکٹس کے لیے ان کے کمرے کا کرایہ بھیجنے میں بھی جدوجہد کرتے ہیں۔
دیو راج نے کہا، ”میں سینئر نیشنلز کھیل کر اپنے خاندان کی پریشانیاں ختم کرنا چاہتا ہوں۔“
پڈوچیری کے 16 سالہ ایم اسٹیفن تیسری بار جونیئر نیشنلز کھیل رہے ہیں۔ ان کے والد کا ایک دہائی پہلے انتقال ہو چکا ہے اور ان کی ماں روزانہ مزدوری کر کے قریب 6,000 روپے مہینے کماتی ہیں۔
اسٹیفن نے کہا، ”میری ماں ہمارے لیے بہت محنت کرتی ہیں، میں بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کرنا چاہتا ہوں۔“
خاتون ٹیم کی وی منگیارکرسی بھی پڑھائی اور کھیل کے درمیان توازن بناتے ہوئے ملک کا نام روشن کرنے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔
ملک بھر میں 3,500 سے زیادہ کھو کھو کھلاڑیوں کو ریلوے، بینک، انکم ٹیکس محکمہ، ڈاک خدمات، نیم فوجی دستوں اور ریاستی حکومتوں میں اسپورٹس کوٹہ کے تحت روزگار مل چکا ہے۔
کھو کھو فیڈریشن آف انڈیا کے صدر سدھانشو متل کہتے ہیں، ”کھو کھو اب ایک جدید اور کیریئر اورینٹڈ کھیل بن چکا ہے۔ کھلاڑیوں کے خواب ہمارے خواب ہیں، اور انہیں ہر ممکن ٹریننگ اور تعاون دینا ہماری ذمہ داری ہے۔“
44 ویں جونیئر نیشنل کھو کھو چیمپئن شپ 31 دسمبر سے شروع ہو کر 4 جنوری کو بنگلورو میں اختتام پذیر ہوگی۔ اس کے بعد 58 ویں سینئر نیشنل چیمپئن شپ (11–15 جنوری، کازی پیٹ) اور 35 ویں سب جونیئر نیشنل چیمپئن شپ (31 جنوری،4 فروری، کروکشیتر) منعقد کی جائیں گی-جہاں ایسے ہی خواب پھر دوڑ لگائیں گے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن