اسٹوکس نے ایشیز میں شکست کے باوجود ای سی بی سے میکولم پر بھروسہ برقرار رکھنے کی اپیل کی
اسٹوکس نے ایشیز میں شکست کے باوجود ای سی بی سے میکولم پر بھروسہ برقرار رکھنے کی اپیل کی سڈنی، 03 جنوری (ہ س)۔ انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے آسٹریلیا میں ایشیز سیریز میں کراری شکست کے باوجود ہیڈ کوچ برینڈن میکولم پر بھروسہ برقرار رکھنے کی اپیل کی
بین اسٹوکس اور برینڈن میکولم


اسٹوکس نے ایشیز میں شکست کے باوجود ای سی بی سے میکولم پر بھروسہ برقرار رکھنے کی اپیل کی

سڈنی، 03 جنوری (ہ س)۔ انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے آسٹریلیا میں ایشیز سیریز میں کراری شکست کے باوجود ہیڈ کوچ برینڈن میکولم پر بھروسہ برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ اسٹوکس نے انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ای سی بی) سے کسی بھی طرح کے جلد بازی والے فیصلے سے بچنے کو کہا اور ’باز بال‘ فلسفے کے ساتھ آگے بڑھنے کی حمایت کی۔

پانچ میچوں کی ایشیز سیریز کو کپتان اسٹوکس اور کوچ میکولم کی جوڑی کے لیے سب سے بڑی آزمائش مانا جا رہا تھا۔ سال 2022 میں ساتھ آنے کے بعد دونوں نے جارحانہ کرکٹ کے نئے انداز کو فروغ دیا۔ حالانکہ، انگلینڈ کی ٹیم آسٹریلیا دورے پر بڑی امیدوں کے ساتھ پہنچی تھی، لیکن محض 11 دنوں کے اندر ہی وہ 0-3 سے پیچھے ہو گئی۔ اس کے باوجود میلبورن ٹیسٹ میں جیت درج کر کے انگلینڈ نے آسٹریلیا میں 15 سال سے چلا آ رہا جیت کا قحط ختم کیا۔

اتوار کو سڈنی میں کھیلے جانے والے آخری ٹیسٹ سے پہلے میکولم کے مستقبل کو لے کر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسٹوکس نے کہا کہ وہ میکولم کے ساتھ کام جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

برطانوی میڈیا کے حوالے سے اسٹوکس نے کہا، ”میرے ذہن میں کوئی شک نہیں ہے کہ آنے والے وقت میں اس ٹیم کو آگے لے جانے کے لیے میں اور برینڈن ہی صحیح لوگ ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی اور شخص اس ٹیم کو موجودہ صورتحال سے اور بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔ ہم دونوں وہی کام جاری رکھنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں جو ہم کر رہے ہیں۔“

اسٹوکس نے مانا کہ میکولم کے ساتھ ابتدائی دور کے مقابلے میں اب ٹیم کے نتائج اور تسلسل میں گراوٹ آئی ہے، لیکن انہوں نے اسے سدھارنے کو لے کر بھروسہ ظاہر کیا۔

انہوں نے کہا، ”ہمیں کچھ باتوں پر تبادلہ خیال کرنا ہوگا تاکہ کھلاڑی پہلے سے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ جب سے میں نے اور برینڈن نے ذمہ داری سنبھالی ہے، تب سے اب تک کے سفر میں ہمیں آگے بڑھنے کے لیے کچھ شعبوں میں سدھار کرنا ہوگا۔“

ایشیز دورے کے دباو کو لے کر بھی اسٹوکس نے کھل کر بات کی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کی مسلسل نگرانی سے خود کو اور کھلاڑیوں کو بچانا کافی تھکانے والا رہا۔

اسٹوکس نے کہا، ”ہمیں اس کی امید تھی اور ہم نے اس کی تیاری بھی کی تھی۔ میں پہلے بھی یہاں کئی دورے کر چکا ہوں، لیکن اس بار دباو پہلے سے کہیں زیادہ رہا۔ سوشل میڈیا اور میڈیا اب اتنا بدل چکا ہے کہ ان سے پوری طرح دور رہنا ناممکن ہے۔“

مزاحیہ انداز میں انہوں نے آگے کہا، ”میری چمڑی کافی موٹی ہے، لیکن پھر بھی سب کچھ نہ دیکھ پانا ناممکن ہے۔ اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ فون کو ندی میں پھینک دیا جائے، لیکن مجھے اپنے فون پر گیم کھیلنا بہت پسند ہے، اس لیے ایسا نہیں کر سکتا۔“ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ایشیز سیریز کا آخری ٹیسٹ اتوار سے سڈنی میں کھیلا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande