
جموں, 21 جنوری (ہ س)۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بدھ کے روز اہم سرکاری محکموں کے ساتھ پری بجٹ مشاورت کا سلسلہ مسلسل دوسرے دن بھی جاری رکھا۔ ان مشاورتوں کا مقصد آئندہ بجٹ اجلاسِ قانون ساز اسمبلی سے قبل ترقیاتی ترجیحات، شعبہ جاتی ضروریات اور مالی تقاضوں کا جامع جائزہ لینا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سماجی بہبود، صحت و طبی تعلیم، اسکولی تعلیم، اعلیٰ تعلیم، محکمہ تعمیراتِ عامہ (سڑک و عمارت)، کانکنی، صنعت و تجارت اور محنت کے محکموں کے ساتھ تفصیلی مشاورتی اجلاسوں کی صدارت کی۔
اجلاسوں میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری اور وزیر صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود سکینہ ایتو بھی شریک رہیں، جبکہ چیف سکریٹری اٹل ڈلو، ایڈیشنل چیف سکریٹری برائے وزیر اعلیٰ دھیرج گپتا، ایڈیشنل چیف سکریٹری پی ڈبلیو ڈی انل کمار سنگھ، پرنسپل سکریٹری خزانہ سنتوش ڈی ویدیہ سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
مشاورت کے دوران وزیر اعلیٰ نے شعبہ وار پیش رفت، جاری منصوبوں کی صورتحال، بجٹ کے استعمال اور آئندہ مالی ضروریات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حقیقت پسندانہ اور نتائج پر مبنی بجٹنگ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوامی وسائل کو اُن ترجیحی شعبوں پر مرکوز کیا جانا چاہیے جو براہِ راست عوامی فلاح و بہبود سے وابستہ ہیں۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ آئندہ بجٹ میں صحت اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، سماجی تحفظ کے دائرہ کار میں توسیع، سڑک رابطہ کاری میں بہتری، صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کی تخلیق کو ترجیح دی جائے گی۔
انہوں نے منصوبوں کی بروقت تکمیل، شفاف عمل درآمد اور مؤثر خدمات کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کو جموں و کشمیر کے عوام کی توقعات اور ضروریات کا آئینہ دار ہونا چاہیے، تاکہ جامع ترقی، متوازن علاقائی پیش رفت اور پائیدار معاشی نمو کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے محکموں کو ہدایت دی کہ وہ حکومت کے ترقیاتی لائحہ عمل اور مالی نظم و ضبط کے مطابق منظم، جامع اور ضرورت پر مبنی تجاویز پیش کریں۔
قابلِ ذکر ہے کہ پری بجٹ مشاورت کا یہ سلسلہ پیر کے روز نو اہم محکموں کے ساتھ شروع ہوا تھا، جو 22 جنوری کو بقیہ محکموں کے ساتھ اجلاسوں کے بعد مکمل ہوگا۔ ان مشاورتوں کا مقصد جموں و کشمیر کے لیے ترقی پسند، جامع اور عوام دوست بجٹ کو حتمی شکل دینا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر