
جموں, 21 جنوری (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری اٹل ڈلو نے بدھ کے روز ریاست بھر میں مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ایز) کی جامع جانچ کے لیے واضح، مربوط اور وقت سے منسلک عملی منصوبہ مرتب کرنے کی ہدایت دی۔ وہ ریمپ پروگرام کے تحت قائم ایم ایس ایم ای ہیلتھ کلینک کے نفاذ اور کارکردگی کا جائزہ لے رہے تھے۔جائزہ اجلاس میں محکمہ صنعت و تجارت کے اعلیٰ افسران اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، جہاں اب تک کی پیش رفت، صنعتوں تک رسائی، اور دباؤ کا شکار ایم ایس ایم ایز کی بروقت نشاندہی اور بحالی کے انتظامات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
چیف سکریٹری نے محکمہ صنعت و تجارت کو ہدایت دی کہ وہ ضلع وار منظم جانچ منصوبہ تیار کرے، جس میں تمام ایم ایس ایم ایز کو شامل کرتے ہوئے واضح ٹائم لائن، قابلِ پیمائش اہداف اور مؤثر نگرانی کا نظام وضع کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایم ایس ایم ای ہیلتھ کلینک کو عملی اور زمینی سطح پر مؤثر نتائج دینے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص اور فوری مداخلت روزگار کے تحفظ اور معاشی سرگرمیوں کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے پروگرام کے نفاذ کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے تاکہ ہیلتھ کلینک جموں و کشمیر میں صنعتوں کی بحالی اور طویل مدتی مضبوطی کے لیے ایک موثر ادارہ جاتی نظام کے طور پر کام کرے۔کمشنر سکریٹری صنعت و تجارت وکرم جیت سنگھ نے اجلاس کو بتایا کہ ایم ایس ایم ای ہیلتھ کلینک آئی آئی ایم جموں کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے لیے 30.64 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اقدام کے تحت ایم ایس ایم ایز کو مالی اور غیر مالی معاونت فراہم کی جائے گی، جس میں تشخیصی مطالعہ، مشاورت، رہنمائی، ہینڈ ہولڈنگ اور حسبِ ضرورت بحالی حل شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایم ایس ایم ای ہیلتھ کلینک کا آن لائن پورٹل 11 جولائی 2025 کو لانچ کیا گیا، جبکہ آئی آئی ایم جموں، جے کے ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن اور محکمہ صنعت و تجارت کے درمیان سہ فریقی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔ ریمپ پروگرام کے تحت جموں و کشمیر کے لیے مجموعی طور پر 74.03 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔منیجنگ ڈائریکٹر جے کے ٹی پی او نے بتایا کہ اب تک 417 ایم ایس ایم ایز پورٹل پر رجسٹر کی جا چکی ہیں۔ تشخیصی رپورٹس کی تیاری اور ماہرین کی آن لائن مشاورت کا عمل جاری ہے، جس کے بعد زمینی سطح پر دورے کیے جائیں گے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں 8.12 لاکھ سے زائد ایم ایس ایم ایز موجود ہیں، جن میں سے بڑی تعداد ادیم رجسٹریشن کے ذریعے رسمی نظام میں شامل ہو چکی ہے۔ ہیلتھ کلینک کا مقصد دباؤ کی ابتدائی علامات کی بروقت نشاندہی کر کے قابلِ عمل صنعتوں کو بحران سے بچانا ہے۔
حکام کے مطابق ڈیٹا انٹیگریشن میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جہاں لاکھوں ایم ایس ایم ایز کا ڈیٹا پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کیا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ڈیٹا کی تازہ کاری کے لیے بڑے پیمانے پر رابطہ مہم شروع کی جائے گی۔
پروگرام کے تحت سینکڑوں ایم ایس ایم ایز کو مالی بحالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ رہنمائی، مشاورت اور کاروباری معاونت جیسی غیر مالی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریمپ پروگرام کے تحت تربیت، مہارت افزائی، ڈیجیٹل فنانسنگ، بائر سیلر میٹس اور جموں و کشمیر کی منفرد مصنوعات کے فروغ سے متعلق متعدد اقدامات پر عمل درآمد جاری ہے، تاکہ ایم ایس ایم ای شعبے کو مضبوط اور پائیدار بنیاد فراہم کی جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر