بند کمرے سے ملیں اٹاوہ کے دو نوجوانوں کی لاشیں ، دم گھٹنے سے ہلاک ہونے کا خدشہ
فیروز آباد، 2 جنوری (ہ س)۔ تھانہ نارکھی کے علاقے میں پٹرول پمپ پر کام کرنے والے دو ملازمین کی موت ہو گئی۔ ان کی لاشیں جمعہ کو جنریٹر روم سے ملیں۔ ابتدائی طور پر موت کی وجہ جنریٹر کے دھوئیں سے دم گھٹنا سمجھا جاتا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع
The-bodies-of-two-young-men-from-Etawah-were-found


فیروز آباد، 2 جنوری (ہ س)۔ تھانہ نارکھی کے علاقے میں پٹرول پمپ پر کام کرنے والے دو ملازمین کی موت ہو گئی۔ ان کی لاشیں جمعہ کو جنریٹر روم سے ملیں۔ ابتدائی طور پر موت کی وجہ جنریٹر کے دھوئیں سے دم گھٹنا سمجھا جاتا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

ساگر ولد چندیل سنگھ اور موہت ولد راجندر سنگھ ساکن اٹاوہ ضلع کے روپ پورہ گاؤں نارکھی تھانہ علاقے کے اسن چوراہا میں واقع ایک پٹرول پمپ پر کام کرتے تھے۔ ہر روز کی طرح جمعرات کی رات بھی اپنا کام ختم کر کے یہ دونوں نوجوان اپنے کمرے میں سونے چلے گئے۔ اس کمرے میں جنریٹر چل رہا تھا۔ جمعہ کے روز جب دونوں کافی دیر تک نہیں اٹھے تو آس پاس کے لوگوں نے پولیس کو اس کی اطلاع دی۔

موقع پر لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا۔ ادھر ، اطلاع پر پہنچی پولیس نے کمرہ کھولا اور دونوں کو فوری علاج کے لیے اسپتال بھیج دیا۔ جہاں ڈاکٹر نے دونوں کو مردہ قرار دے دیا۔ پولیس نے فارنسک ٹیم کو بلا کر جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کئے۔ متوفی کے لواحقین کو واقعہ کی اطلاع دے دی گئی ہے۔

شہرکے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس روی شنکر پرساد نے بتایا کہ پٹرول پمپ پر کام کرنے والے دو ملازمین بند کمرے میں مردہ پائے گئے۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں افراد کی موت کمرے میں جنریٹر سے نکلنے والے دھوئیں کی وجہ سے دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔ موت کا صحیح وقت اور وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے معلوم ہو گا جسے مردہ خانے بھجوا دیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande