
علی گڑھ, 02 جنوری (ہ س)۔
وزارتِ آیوش حکومت ہند کی مرکزی کونسل برائے تحقیقات طب یونانی کے تحت قائم'ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن' (آرآرآئی یو ایم) علی گڑھ نے ایک تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے امراضِ جلد کے علاج کے لیے جدید ترین نیرو بینڈ الٹرا وائلٹ بی تھراپی (این بی یو وی بی) کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ یونانی کونسل کا پہلا ایسا ادارہ بن گیاہے جہاں روایتی ادویات کے ساتھ اس جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کیا جا رہا ہے۔ اس اولیت کا سہرا معروف محقق اور ادارے کے ممتاز معالج حکیم مصباح الدین اظہر کے سر ہے، جن کی انتھک کاوشوں سے یونانی طب میں جدید ٹیکنالوجی کا یہ امتزاج ممکن ہو سکا ہے۔اس جدید مشین کا باضابطہ افتتاح آج ایک باوقار تقریب میں پروفیسر بدر الدجیٰ خان (پرنسپل، اجمل خاں طبیہ کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) اور فیکلٹی آف یونانی میڈیسن علی گڑھ کے ڈاکٹر محمد محسن (صدر شعبہ امراضِ جلد)کے ہاتھوں عمل میں آیا۔نیرو بینڈ یو وی بی (این بی یو وی بی) ایک ایسی جدید مشین ہے جو روشنی کی ایک مخصوص لہر (311 nm) کے ذریعے جلد کے متاثرہ خلیات کا علاج کرتی ہے۔ یہ تکنیک خاص طور پر برص (ویٹیلیگو) اور چنبل (پسوریئسس) جیسے ضدی امراض میں انتہائی موثر ہے کیونکہ یہ بغیر کسی تکلیف کے جلد کے رنگ کو بحال کرنے اور سوزش کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یونانی ادویات کے ساتھ اس کا امتزاج مریضوں کو جلد اور پائیدار شفایابی فراہم کرتاہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانوں نے کہا کہ اس نئی ٹیکنالوجی سے یونانی طریقہ علاج پر مریضوں کا اعتماد بڑھے گا اور انہیں ایک ہی چھت کے نیچے جدید ترین طبی سہولیات میسر ہوں گی۔ یہ پروجیکٹ حکیم مصباح الدین اظہر (چیف انوسٹی گیٹر) کی نگرانی میں شروع کیا گیا ہے، جو یونانی طب میں اس مشین کی افادیت پر باقاعدہ سائنسی تحقیق کرنے والے یونانی کونسل میں پہلے محقق بن گئے ہیں۔ اس اہم تحقیقی مشن میں حکیم فخر عالم اور ڈاکٹر ریشہ احمد بطور انویسٹی گیٹر (انویسٹیگیٹر) شامل ہیں۔انسٹی ٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر سید عباس حیدر زیدی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور ریسرچ ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حکیم مصباح الدین اظہر اور ان کی ٹیم کی یہ علمی پیش رفت ادارے کے وقار میں اضافے کے ساتھ ساتھ مریضوں کے لیے نویدِ شفا ثابت ہوگی۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ