
مدارس مسلمانوں کی تعلیم کے مضبوط ستون ہیں : ڈاکٹر محمد سہیل اختر
علی گڑھ، 02 جنوری (ہ س)۔ مدارس مسلمانوں کی تعلیم کے مضبوط ستون ہیںم جوصدیوں سے مذہبی تعلیم کو فروغ دینے میں اپنا اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار معروف سماجی کارکن ڈاکٹر محمد سہیل اختر نے کیا۔ وہ مدارس میں عصری تعلیم کے تنا ظر میں اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مدارس نے ملک کی آزادی میں کلیدی کردارادا کیا ہے اور آج بھی ضرورت ہے کہ حکومت کے ساتھ مل کر، قومی سلامتی کے لئے اپنا اہم کردار ادا کریں۔ انھوں نے کہا کہ جدید نصاب کو اپنا عصری علوم کو شامل کرکے طلبا کی ذہن سازی کی جا سکتی ہے جو ملک اور قوم کی بڑی خدمت ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ صدیوں سے مدارس مسلم بچوں، خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے تعلیم کا اہم مرکز بنے ہوئے ہیں اور مفت تعلیم فراہم کرتے ہیں۔
انھوں نے سرکاری اعداد شمار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی امور کی وزارت کے مطابق ہندوستان میں تقریباً 38,000 مدارس ہیں جن میں سے تقریباً 28,107 کو سرکاری طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ ادارے 20 لاکھ سے زیادہ طلباء کو داخلہ دیتے ہیں، جو انہیں ہندوستان کے خواندگی کے منظر نامے میں ایک اہم شراکت دار بناتے ہیں۔ اگرچہ وہ روایتی اسلامی علوم کو محفوظ رکھتے ہیں، لیکن روایتی نصاب مذہبی علوم پر بہت زیادہ توجہ دیتا ہے اور عصری تعلیم بھی انکے نصاب کا حصہ بن رہی ہے۔ جس سے فارغ التحصیل طلبا اب نوکریوں کے لئے تیار ہوسکیں گے۔ یہی حکومت کی منشا ہے۔ ان کے لئے سائنس، ٹیکنالوجی اور تجزیاتی استدلال میں مہارت کی مزید ضرورت ہوگی۔
ڈاکٹر محمد سہیل اختر نے سچر کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2006 کی رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ مسلم کمیونٹی کے اندر تعلیمی پسماندگی موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ مدرسہ کی جدید کاری میں سیکولر مضامین جیسے سیاسیات، عوامی پالیسی، سماجیات، قومی سلامتی کے مسائل، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ قرآنی علوم بھی شامل ہیں جس سے اچھی طرح سے باخبر طلبہ پیدا ہوں گے۔ ایسے مضامین تنقیدی سوچ کو فروغ دیں گے۔
جدید مدارس آئی ٹی اور انٹرپرینیورشپ میں پیشہ ورانہ کورسز کے ذریعے تعلیم کو ملازمت کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں، مستقبل میں ملازمتوں کے راستے کھول سکتے ہیں اور بے روزگاری کو کم کر سکتے ہیں۔ اس سے مسلم طلباء میں تعلیم چھوڑنے کی شرح بھی کم ہوگی،اس تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ حکومت جس طرح کے اقدامات کررہی ہے وہ قابل توجہ ہیں اور اسکے مثبت نتائج برآمد ہونگے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ