
لیجنڈ موسیقار اے آر رحمان نے بالی ووڈ میں فرقہ وارانہ امتیاز کے حوالے سے اپنے حالیہ بیان سے متعلق تنازعہ کے درمیان اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ سوشل میڈیا اور فلم انڈسٹری میں گرما گرم بحث کے بعد رحمان نے واضح کیا کہ ان کے الفاظ کی غلط تشریح کی گئی اور ان کا کبھی کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے یا نفرت پھیلانے کا ارادہ نہیں تھا۔
آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار حال ہی میں اپنے اس بیان کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں گزشتہ 7-8 سالوں میں بالی ووڈ سے کام کی کم پیشکشیں موصول ہوئی ہیں اور اس کے پیچھے کچھ فرقہ وارانہ وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اس تبصرہ نے سوشل میڈیا پر ایک گرما گرم بحث چھیڑ دی، جاوید اختر سمیت کئی مشہور شخصیات نے ردعمل کا اظہار کیا۔ بڑھتے ہوئے تنازعہ کے درمیان رحمان نے اپنے موقف کی وضاحت کے لیے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی۔
ویڈیو میں رحمان نے کہا، میرا مقصد کبھی کسی کو نقصان پہنچانا یا نفرت پھیلانا نہیں تھا۔ میں ایک موسیقار ہوں، اور میرا کام لوگوں کو جوڑنا ہے، انہیں تقسیم کرنا نہیں۔ میں نے محض اپنے تجربات شیئر کیے، لیکن ان کی غلط تشریح کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی پوری زندگی اور کیریئر اتحاد، احترام اور ثقافتی ہم آہنگی کے لیے وقف ہے۔
اپنی حالیہ کامیابیوں کو یاد کرتے ہوئے، رحمان نے وضاحت کی کہ ان کی توجہ ہمیشہ آرٹ اور قومی فخر کو فروغ دینے پر مرکوز رہی ہے۔ انہوں نے ویو سمٹ میں جالا کی اپنی کارکردگی، ناگالینڈ کے نوجوان موسیقاروں کے ساتھ اپنے کام اور کثیر ثقافتی ورچوئل بینڈ سیکرٹ ماو¿نٹین کا ذکر کیا۔ انہوں نے ہنس زیمر کے ساتھ فلم ”رامائن“ کی موسیقی ترتیب دینے پر بھی فخر کا اظہار کیا۔
اپنے پیغام کے اختتام پر رحمٰن نے ہندوستان سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ وہ ایسی موسیقی تخلیق کرنے کے لیے پرعزم ہیں جو ماضی کا احترام کرے، حال کو منائے اور مستقبل کو متاثر کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے لیے موسیقی ہمیشہ ملک کے اتحاد اور ثقافتی ورثے کی علامت رہے گی، کسی تلخی یا تقسیم کی نہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ