کانگریس رکن اسمبلی پھول سنگھ بریا کے قابل اعتراض بیان سے پارٹی نے کنارہ کشی اختیار کی
بھوپال، 17 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے کانگریس رکن اسمبلی پھول سنگھ بریا کے قابل اعتراض بیان سے پارٹی نے کنارہ کر لیا ہے۔ ریاستی کانگریس تنظیم نے سرکاری طور پر اس بیان سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے اسے رکن اسمبلی کا ذاتی خیال قرار دیا ہے۔ کانگریس رکن
کانگریس پھول سنگھ بریا کی انٹرویو کے وقت کی تصویر


بھوپال، 17 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے کانگریس رکن اسمبلی پھول سنگھ بریا کے قابل اعتراض بیان سے پارٹی نے کنارہ کر لیا ہے۔ ریاستی کانگریس تنظیم نے سرکاری طور پر اس بیان سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے اسے رکن اسمبلی کا ذاتی خیال قرار دیا ہے۔

کانگریس رکن اسمبلی پھول سنگھ بریا نے ایک انٹرویو کے دوران خواتین، خاص طور پر ایس سی-ایس ٹی اور او بی سی سماج کی خواتین اور بچیوں کے حوالے سے ایسے متنازعہ بیان دیے، جنہیں سماجی تانے بانے کو ٹھیس پہنچانے والا مانا جا رہا ہے۔ اس بیان کے سامنے آنے کے بعد بی جے پی نے کانگریس پر خواتین مخالف اور دلت مخالف ذہنیت کا الزام لگایا اور ریاستی کانگریس قیادت سے رکن اسمبلی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اس تنازعہ کے درمیان مدھیہ پردیش کانگریس تنظیم انچارج سنجے کاملے نے رکن اسمبلی کے بیان سے صاف طور پر لاتعلقی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ پھول سنگھ بریا کا یہ بیان ان کا ذاتی خیال ہے اور کانگریس پارٹی یا تنظیم کی اس سے کوئی رضامندی نہیں ہے۔ سنجے کاملے نے واضح الفاظ میں کہا کہ عصمت دری کسی سماج، ذات یا مذہب سے جڑا ہوا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مجرمانہ اور مسخ شدہ ذہنی سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔

کاملے نے کہا، ’’عصمت دری ایک ذہنی رجحان ہے۔ یہ کسی بھی سماج کی خواتین یا بچیوں کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ مجرم ذات یا مذہب دیکھ کر زیادتی نہیں کرتے، یہ ان کی مجرمانہ ذہنیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی سماج یا طبقے کی خواتین کے حوالے سے اس طرح کے تبصرے سماج میں غلط پیغام دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔ ’’ہر بچہ اور ہر خاتون اپنے والدین اور کنبے کے لیے سب سے خوبصورت ہوتی ہے۔ کسی سماج یا طبقے کو خوبصورتی یا بدصورتی کے پیمانے پر پرکھنا پوری طرح سے غلط ہے،‘‘ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر اس بیان کو لے کر پارٹی کو کوئی باضابطہ شکایت ملتی ہے، تو کانگریس کی تادیبی کمیٹی اس پر غور کرے گی اور ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ اس طرح کے بیان سماج میں نفرت پھیلانے والے ہیں اور خواتین و دلت طبقے کی توہین کرتے ہیں۔

ان بیانات کے سامنے آنے کے بعد سماجی تنظیموں اور عام شہریوں میں بھی شدید غم و غصہ ہے۔ کئی تنظیموں نے اسے خواتین کی توہین بتایا ہے۔ ساتھ ہی دلت اور پسماندہ سماج کو داغدار کرنے والا بیان قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس بیان کو لے کر کانگریس رکن اسمبلی کی تنقید ہو رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande