وجے ہزارے ٹرافی 2025-26: روہت شرما اور ویراٹ کوہلی کو ان کے گھریلو ساتھیوں کی جانب سے زبردست حمایت موصول ہوئی
نئی دہلی، 14 جنوری (ہ س)۔ ہندوستانی کرکٹ لیجنڈز روہت شرما اور ویراٹ کوہلی کی وجے ہزارے ٹرافی (وی ایچ ٹی) 2025-26 میں واپسی نے نہ صرف تماشائیوں کو بلکہ ان کے گھریلو ساتھیوں کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ ممبئی اور دہلی کی ٹیموں کے کھلاڑیوں نے دونوں تجربہ
رہت


نئی دہلی، 14 جنوری (ہ س)۔ ہندوستانی کرکٹ لیجنڈز روہت شرما اور ویراٹ کوہلی کی وجے ہزارے ٹرافی (وی ایچ ٹی) 2025-26 میں واپسی نے نہ صرف تماشائیوں کو بلکہ ان کے گھریلو ساتھیوں کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ ممبئی اور دہلی کی ٹیموں کے کھلاڑیوں نے دونوں تجربہ کاروں کی تعریف کی ہے۔ ٹورنامنٹ کا آغاز 23 دسمبر کو ہوا جس کا فائنل 18 جنوری کو شیڈول ہے۔

روہت شرما اور ویراٹ کوہلی نے اس سیزن میں دو دو میچ کھیلے۔ روہت نے 2018 کے بعد پہلی بار ڈومیسٹک ون ڈے کرکٹ میں واپسی کی، جب کہ کوہلی نے تقریباً 15 سال بعد 2010 میں شروع ہونے والی وجے ہزارے ٹرافی میں حصہ لیا۔روہت نے سکم کے خلاف پہلے میچ میں ممبئی کے لیے شاندار 155 رن بنائے، لیکن اتراکھنڈ کے خلاف دوسرے میچ میں بغیر کوئی رن بنائے آو¿ٹ ہو گئے۔ اس دوران ویراٹ کوہلی نے گجرات کے خلاف دہلی کے لیے 77 رن بنائے اور اس کے بعد آندھرا پردیش کے خلاف یادگار 131 رن بنائے۔

بی سی سی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں ممبئی کے سورانش شیڈگے، انگکرش رگھوونشی، مشیر خان اور شمس ملانی نے روہت شرما کی تعریف کی، جب کہ دہلی کے پرنس یادو، نودیپ سینی اور روہن رانا نے ویراٹ کوہلی کے تجربے اور رہنمائی کی تعریف کی۔

ممبئی کے سورینش شیڈگے نے کہا کہ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا جب روہت پہلے دن پریکٹس کے لیے آئے۔ پھر میں یہ جاننے کے لیے متجسس ہوا کہ وہ اتنی بلندی پر کیسے پہنچا اور ملک کے لیے اتنے ٹائٹل کیسے جیتے۔ میں نے پریکٹس کے دوران انھیں قریب سے دیکھا اور محسوس کیا کہ وہ ہمیشہ کرکٹ کے بارے میں سوچتے ہیں اور اس کے بارے میں بات کرنا پسند کرتے ہیں۔

روہت شرما کے ساتھ اننگز کی شروعات کا اپنا تجربہ بتاتے ہوئے انگکرش راگھوونشی نے کہا، مجھے ان کے ساتھ اننگز شروع کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، ہم نے 140 رنوںکی شراکت داری کی، جس میں میں نے صرف 40 رن بنائے اور روہت بھائی نے چاروں طرف ہٹ کیا۔ اسے نان اسٹرائیکر کی طرف سے بلے بازی کرتے ہوئے دیکھنا ایک لیگ کا اختتام تھا۔

دہلی کے تیز گیند باز پرنس یادو نے پریکٹس کے دوران ویراٹ کوہلی کو گیند کرانے کے تجربے کو بہت خاص بتایا۔ انہوں نے کہا، یہ ان کے لیے پریکٹس میں باو¿لنگ کرنے کا بہت اچھا تجربہ تھا۔ جب آپ ویراٹ کوہلی جیسے کھلاڑی کے سامنے اچھی گیند بازی کرتے ہیں تو جب آپ میدان سنبھالتے ہیں تو آپ کا اعتماد اور حوصلہ خود بخود بڑھ جاتا ہے۔

ممبئی کے آل راو¿نڈر شمس ملانی نے کہا کہ روہت شرما کی موجودگی ٹیم کا ماحول مکمل طور پر بدل دیتی ہے۔ انہوں نے کہا، جب روہت ٹیم میں آتے ہیں، تو ان کی ایک الگ ہی چمک ہوتی ہے۔ ہر کھلاڑی ان پر اپنی صلاحیت ثابت کرنا چاہتا ہے، اور یہی چیز ٹیم کو زیادہ سنجیدہ بناتی ہے۔

دہلی کے گیند باز نودیپ سینی نے ٹیم بس سے ایک کہانی شیئر کرتے ہوئے کہا، ویراٹ بھیا عام طور پر بس کی اگلی سیٹ پر بیٹھتے ہیں، لیکن ایک دن انہوں نے ہمارے ساتھ پیچھے بیٹھنے کا انتخاب کیا۔ ہم سب بہت خوش تھے اور راستے میں کافی بات چیت ہوئی۔

ممبئی کے آل راو¿نڈر مشیر خان نے روہت شرما کے ساتھ کریز شیئر کرنے کے اپنے تجربے کو یاد کرتے ہوئے کہا، میری سنچری کے دوران روہت مجھے آزادانہ طور پر کھیلنے کو کہتے رہے، جب جیتنے کے لیے 25-30 رن باقی تھے تو انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں اسٹرائیک کرنا چاہتا ہوں، میں نے انھیں میچ ختم کرنے کو کہا، اور انھوں نے ایسا کیا۔

دہلی کے آل راو¿نڈر روہن رانا نے کہا کہ ویراٹ کوہلی نے انہیں ڈومیسٹک کرکٹ کو سنجیدگی سے لینے کا مشورہ دیا۔ رانا نے کہا، ویراٹ بھیا نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ وہ پلیٹ فارم ہے جو آپ کو بلندیوں پر پہنچاتا ہے۔ جب آپ میدان میں اترتے ہیں تو 200 فیصد دیں۔ انہوں نے خود اپنے کھیل کے ذریعے یہ پیغام دیا۔

ڈومیسٹک کرکٹ میں روہت شرما اور ویراٹ کوہلی کی موجودگی سے نوجوان کھلاڑیوں کو نہ صرف سیکھنے کا موقع ملا ہے بلکہ ان کے اعتماد اور حوصلہ میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande