بلا مقابلہ منتخب امیدواروں پر ہائی کورٹ کا مؤقف ، انتخابی عمل جاری، عدالت نے مداخلت سے انکار کیا ،کیس خارج
ممبئی، 14 جنوری (ہ س)۔ مہاراشٹر میں میونسپل کارپوریشن انتخابات کے دوران بلا مقابلہ منتخب قرار دیے گئے امیدواروں کے خلاف دائر کی گئی عرضی کو بامبے ہائی کورٹ نے بدھ کے روز مسترد کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ انتخابات کا عمل ابھی جاری ہے، اس ل
LAW MAHA BOMBAY HC UNOPPOSED CANDIDATES


ممبئی، 14 جنوری (ہ س)۔ مہاراشٹر میں میونسپل کارپوریشن انتخابات کے دوران بلا مقابلہ منتخب قرار دیے گئے امیدواروں کے خلاف دائر کی گئی عرضی کو بامبے ہائی کورٹ نے بدھ کے روز مسترد کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ انتخابات کا عمل ابھی جاری ہے، اس لیے عدالت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔سماعت کے دوران عدالت کے سامنے یہ حقیقت رکھی گئی کہ ریاست بھر میں میونسپل انتخابات کے تحت 65 سے زیادہ امیدوار ایسے ہیں جن کے مقابل کسی سیاسی جماعت یا آزاد امیدوار نے نامزدگی داخل نہیں کی۔ اس صورتحال کے باعث ان امیدواروں کی جیت یقینی سمجھی جا رہی تھی، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس پر اعتراض اٹھایا تھا، جس کے بعد ریاستی الیکشن کمیشن نے پورے معاملے کی گہرائی سے جانچ کے احکامات جاری کیے۔ریاستی الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا تھا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک ان امیدواروں کو سرکاری طور پر کامیاب قرار نہیں دیا جائے گا۔ اسی تناظر میں مہاراشٹر نونرمان سینا کے رہنما اویناش جادھو نے بلا مقابلہ انتخابات کے عمل کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔بدھ کے روز اس عرضی پر چیف جسٹس چندرشیکھر اور جسٹس گوتم انکھڈ پر مشتمل بنچ نے سماعت کی۔ بنچ نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ عرضی میں ایسا کوئی الزام سامنے نہیں آیا کہ کسی امیدوار کو نامزدگی داخل کرنے سے روکا گیا ہو، اس لیے عدالت کی جانب سے مداخلت کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی مرحلے پر کوئی بے ضابطگی سامنے آتی ہے تو اس کی جانچ کا اختیار ریاستی الیکشن کمیشن کے پاس ہے، عدالت کے پاس نہیں۔ ان مشاہدات کے بعد ہائی کورٹ نے عرضی خارج کر دی۔سماعت کے بعد منسے رہنما کے وکیل عاصم سرودے نے کہا کہ ان کی امید تھی کہ عدالت اس معاملے میں وقت کی حد مقرر کرتے ہوئے جانچ کے احکامات دے گی، کیونکہ ریاستی الیکشن کمیشن پہلے ہی تحقیقات کا حکم دے چکا ہے۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande