
حیدرآباد، 12 ۔ جنوری (ہ س)۔حیدرآباد کے اولڈ سٹی میں گانجے کی غیر قانونی فروخت ایک بار پھر سنگین تشویش کا باعث بن گئی ہے۔ مختلف علاقوں میں ممنوعہ نشہ آور مادہ کھلے عام فروخت ہونے کی اطلاعات کے درمیان بندلہ گوڑہ پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 2 کلو گانجا ضبط کر لیا اور ایک ملزم کو گرفتار کیا۔ یہ کارروائی شہر میں منشیات کے نیٹ ورک کے خلاف پولیس کی سخت مہم کو ظاہر کرتی ہے۔حیدرآباد پولیس کمشنر کی ہدایات پر شہر بھر میں گاڑیوں کی چیکنگ اور نگرانی سخت کر دی گئی ہے تاکہ منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ اور فروخت پر قابو پایا جا سکے۔ اسی مہم کے تحت بندلہ گوڑہ پولیس نے گاڑیوں کی معمول کی تلاشی کے دوران دو مشتبہ افراد کو روکا، جس کے بعد گانجا برآمد ہوا۔ پولیس حکام نے خبردار کیا ہے کہ نشہ آور اشیاء کی آزادانہ گردش اکثر سنگین جرائم اور پرتشدد واقعات کو جنم دیتی ہے، اس لیے اس کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل اور سخت کارروائی ضروری ہے۔
گرفتار افراد کی شناخت محمد عمران اور منور کے طور پر کی گئی ہے۔ تلاشی کے دوران پولیس نے محمد عمران کے قبضے سے تقریباً 2 کلو گانجا برآمد کیا۔ دورانِ تفتیش محمد عمران نے اعتراف کیا کہ اس نے یہ گانجا اڈیشہ سے تعلق رکھنے والے ایک سپلائر، ہیپی بھائی، سے حاصل کیا تھا۔ پولیس نے واضح کیا کہ منور صرف خریدار تھا اور منشیات کی اسمگلنگ میں براہِ راست ملوث نہیں تھا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ گانجا زیادہ تر اڈیشہ اور اتر پردیش سے لایا جا رہا ہے، جہاں سے مہاجر نیٹ ورکس اور مقامی دلالوں کی مدد سے اسے حیدرآباد کے اولڈ سٹی علاقوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق پوری سپلائی چین، بشمول سپلائرز اور درمیانی افراد، کی نشاندہی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔بندلہ گوڑہ پولیس نے اس معاملے میں باقاعدہ کیس درج کر لیا ہے اور مرکزی ملزم محمد عمران کو عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے، جبکہ دیگر ملوث افراد تک پہنچنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس نے ایک بار پھر سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گانجا کی فروخت یا تقسیم میں ملوث کسی بھی شخص کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، اولڈ سٹی کے منشیات سے متاثرہ علاقوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور تلاشی مہمات میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق