وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی نئے سال میں چھوٹے دکانداروں کو سوغات، غیر ضروری معائنہ پر پابندی
بھوپال، یکم جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی ہدایات کے مطابق مدھیہ پردیش حکومت کے محکمہ محنت (لیبر ڈپارٹمنٹ) کی جانب سے مدھیہ پردیش شاپ اینڈ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ، 1958 میں اہم ترمیم کی گئی ہے۔ یہ ترمیم ریاست میں از آف ڈوئنگ بزن
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو )فائل فوٹو(


بھوپال، یکم جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی ہدایات کے مطابق مدھیہ پردیش حکومت کے محکمہ محنت (لیبر ڈپارٹمنٹ) کی جانب سے مدھیہ پردیش شاپ اینڈ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ، 1958 میں اہم ترمیم کی گئی ہے۔ یہ ترمیم ریاست میں از آف ڈوئنگ بزنس کو فروغ دینے اور دکانداروں و ادارہ مالکان پر تعمیل (کمپلائنس) کا غیر ضروری بوجھ کم کرنے کے مقصد سے کی گئی ہے۔ ترمیم کے تحت اب ایسی دکانیں اور ادارے، جن میں 20 سے کم ملازمین کام کر رہے ہیں، ان کے یہاں لیبر انسپکٹرز کے ذریعے معائنہ صرف ریاستی حکومت کی پیشگی اجازت سے ہی کیا جا سکے گا۔ اس سے غیر ضروری معائنوں پر روک لگے گی۔

محکمہ محنت کے ایڈیشنل سکریٹری بسنت کرے نے جمعرات کو بتایا کہ اس فیصلے سے چھوٹے دکانداروں اور تاجروں کو غیر ضروری پریشانیوں سے راحت ملے گی۔ ساتھ ہی دکانداروں میں خود تعمیل (سیلف کمپلائنس) کے جذبے کو فروغ ملے گا۔ تجارت اور روزگار پیدا کرنے کے لیے سازگار ماحول تیار ہوگا۔ اس سے وقت، وسائل اور لاگت کی بچت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی قیادت میں ریاستی حکومت کی جانب سے چھوٹے دکانداروں کے تئیں حساسیت برتی جا رہی ہے۔ ریاست میں تجارت کو اعتماد کے ساتھ چلانے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ ریاستی حکومت کا یہ قدم واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ صرف معائنہ اور سزا کے عمل سے مختلف یہ پالیسی تاجروں کے لیے کارگر ثابت ہوگی۔

محکمہ محنت نے سبھی دکانداروں، تجارتی انجمنوں اور تاجروں سے توقع کی ہے کہ وہ لیبر قوانین کی اپنی مرضی سے تعمیل کریں اور اس مثبت اصلاح کا فائدہ اٹھا کر اپنے کاروبار کو وسعت دیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande