۔جموں, 14 اگست (ہ س)۔
ضلع کشتواڑ کے چشوتی گاؤں میں جمعرات کی دوپہر بادل پھٹنے کے نتیجے میں آنے والے قیامت خیز سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی، جس میں کم از کم 40 افراد جاں بحق اور 120 کے قریب زخمی ہو گئے۔ اس المناک سانحے میں مقامی افراد کے ساتھ ساتھ مچیل ماتا یاترا کے سینکڑوں یاتری بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بادل چشوتی گاؤں کے بالائی علاقے میں پھٹنے کے بعد پانی تین مختلف سمتوں سے بستی میں داخل ہوا، جبکہ ایک شدید ریلہ گاؤں کے عین وسط سے گزرتے ہوئے اپنے ساتھ انسانوں، مویشیوں اور گاڑیوں کو بہا لے گیا، جو اب ملبے تلے دبے یا گمشدہ ہیں۔ مقامی عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ متاثرین میں بڑی تعداد یاتریوں اور لنگر سروس فراہم کرنے والوں کی ہے۔
بچاؤ و راحت کاری کے لیے ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، پولیس، فوج اور مقامی رضاکاروں ابابیل سمیت تمام ادارے موقع پر موجود ہیں، تاہم خراب موسم کے باعث فضائی امدادی کارروائیاں تاحال ممکن نہیں ہو سکیں۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، سابق وزرائے اعلیٰ غلام نبی آزاد اور محبوبہ مفتی سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے چشوتی سانحہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر تمام وسائل متاثرہ علاقے میں روانہ کر دیے ہیں تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کر کے قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر