نتیش کے زیادہ تر مسلم لیڈر وں کاباغیانہ تیوار ، سوال- کیا جے ڈی یو دو حصوں میں ہوگی تقسیم ؟پٹنہ03اپریل(ہ س)۔لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل کی منظوری کے بعد جے ڈی یو کے اندر افراتفری شروع ہوگئی ہے۔ جے ڈی یو کے مسلم لیڈروں نے یہ کہہ کر سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے کہ جلد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ پارٹی کے مسلم لیڈروں میں ایم ایل سی غلام غوث ، ایم ایل سی خالد انور ، سابق ایم پی اور قومی جنرل سکریٹری غلام رسول بلیاوی ، اقلیتی محاذ کے صدر سلیم پرویز ، سابق ایم پی اشفاق کریم اور اشفاق احمد اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ایسے میں اب سب کی نظریں ان کے موقف پر جمی ہوئی ہیں۔عنقریب پٹنہ میں بہار ، اڑیسہ ، جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے ادارہ شرعیہ کے حامیوں کی میٹنگ بلانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ۔ جے ڈی یو کے مسلم لیڈروں نے واضح کیا ہے کہ وہ میٹنگ کے بعد ہی کوئی فیصلہ لیں گے۔ غلام رسول بلیاوی نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم سپریم کورٹ اور تمام ہائی کورٹس کی قانونی ٹیم سے بھی بات کریں گے۔ غلام رسول بلیاوی نے کہا کہ وقف بل پاس ہو چکا ہے۔ ادارہ شرعیہ کی جانب سے، ہم نے جے پی سی کو 31 صفحات پر مشتمل تجاویز دی تھیں اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور چندرا بابو نائیڈو کو بھی بھیجی تھیں۔ یہ تمام جے پی سی ممبران کو بھی دیا گیا۔ اب بل پاس ہو چکا ہے۔
وہیں غلام رسول بلیاوی کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیڈر جے ڈی یو چھوڑنے کا فیصلہ بھی لے سکتے ہیں۔ غلام رسول بلیاوی حادثے کے بعد کافی دنوں سے بیڈ ریسٹ پر تھے۔ بلیاوی نے کہا کہ اس وقت پورے ملک میں مسلمان اور امن پسند لوگ ناراض ہیں۔ یہ بات معقول ہو گئی ہے کہ اب فرقہ پرست اور سیکولر ، سیکولر اور فرقہ وارانہ میں کوئی فرق نہیں رہا ۔ حالات اور حادثے کے باوجود میں بڑی ہمت کے ساتھ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔جے ڈی یو اقلیتی محاذ کے سابق صدر اور بہار قانون ساز کونسل کے سابق نائب چیئرمین سلیم پرویز بہار سے باہر ہیں۔ سلیم پرویز نے ٹیلی فون پربات چیت میں کہا کہ فی الحال ہم جے ڈی یو کے ساتھ ہیں۔ میں نے نتیش کمار سے ملاقات کے بعد انہیں سب کچھ بتا دیا ہے۔غلام غوث نے وقف بل کی مخالفت کی ہے۔ ایک بار پھر دستبرداری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ غلام غوث اب بھی نتیش کمار پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں ، لیکن ان کی ناراضگی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ غلام غوث اس وقت پارٹی کے ایم ایل سی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے لالو پرساد یادو سے بھی ملاقات کی تھی اور ان کے بارے میں بھی کئی طرح کی بحثیں چل رہی ہیں۔
جے ڈی یو کے ایم ایل سی خالد انور کی قانون ساز کونسل میں طویل مدت کار ہے ، لیکن اس سے قبل بھی اپنے بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ جلد اس پر بات کریں گے۔ پارٹی کے واحد مسلم وزیر زماں خان نے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ لوگوں کو جو کچھ کرنا تھا ، وہ کر چکے ہیں۔ اس پر وقف بل کی منظوری کے بعد اب آپ کا کیا موقف ہے ، زماں خان نے کہا کہ میں پٹنہ پہنچ کر اس پر بات کروں گا، میں اس وقت علاقے میں ہوں۔مجموعی طور پر جے ڈی یو کے تمام مسلم لیڈر فی الحال نتیش کمار کے خلاف کھل کر بولنے سے گریز کر رہے ہیں ۔ لیکن جلد ہی کوئی بڑا فیصلہ لے سکتے ہیں۔ جے ڈی یو کے مسلم لیڈروں نے کہا کہ کمیونٹی کی طرف سے ان پر بہت دباؤ ہے۔واضح ہو کہ وقف ترمیمی بل 2025 جمعرات کے روز لوک سبھا سے پاس ہو گیا تھا۔ 11 گھنٹے تک جاری رہنے والی بحث کے بعد اسے منظور کیا گیا ۔ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے اس بل کی بھرپور حمایت کی گئی، اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے ۔ ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی کیونکہ اپوزیشن انڈیا اتحاد کے قائدین اور ارکان نے اس کی شدید مخالفت کی۔سیاسی ماہر سنیل پانڈے کا کہنا ہے کہ بہار میں مسلمانوں کا ووٹ فیصد 17.70 ہے اور اس کے بعد یادووں کا ووٹ تقریباً 14 فیصد ہے۔ اگر ہم ان دونوں کو شامل کریں تو یہ تقریباً 32 فیصد بنتا ہے اور یہ ایک بڑی تعداد ہے جس سے اپوزیشن فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ بہار میں 50 اسمبلی سیٹیں ہیں ، جہاں نتیش کمار کو مسلم ووٹروں کےناراضگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔2015 میں مہاگٹھ بندھن حکومت کے قیام کے صرف دو سال بعد نتیش کمار نے پھر سے رخ بدل لیا اور بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ۔ اس وقت سے نتیش کمار کے خلاف مسلمانوں کی ناراضگی بڑھنے لگی۔ یہی وجہ تھی کہ جے ڈی یو نے 2020 کے اسمبلی انتخابات میں 11 مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا ، لیکن ایک بھی جیت نہ سکے۔ 2020 میں این ڈی اے سے ایک بھی مسلم ایم ایل اے منتخب نہیں ہوائے تھےاور اسی وجہ سے جے ڈی یو کو بی ایس پی کے ٹکٹ پر جیتنے والے زما ں خان کو پارٹی میں شامل کرنا پڑا اور انہیں وزیر بھی بنانا پڑا۔2024 میں بھی جے ڈی یو نے کشن گنج سے ایک مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا تھا ، لیکن ایک بار پھر جے ڈی یو وہاں بھی ہار گئی۔ اب جب کہ وقف بل لوک سبھا سے پاس ہو چکا ہے تو یہ یقینی ہے کہ مسلمانوں کا غصہ مزید بڑھے گا۔ ایسے میں نتیش کمار نے مسلمانوں کی ناراضگی دور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ حال ہی میں عید کے موقع پر نتیش کمار نے ایک درجن سے زیادہ مقامات کا دورہ کیا اور مسلمانوں کی اہم عبادت گاہوں پر نماز ادا کی اور لوگوں سے ملاقات بھی کی۔سیمانچل میں اے آئی ایم آئی ایم کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور پرشانت کشور کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے نتیش کمار کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ پہلے ہی آر جے ڈی اور کانگریس کا اتحاد ایک بڑا چیلنج تھا۔ ایسے میں جے ڈی یو کے مسلمانوں کے لیے پارٹی میں رہتے ہوئے اپنی سیاست جاری رکھنا آسان نہیں ہوگا۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وقف بل کے خلاف بولنے والے جے ڈی یو کے مسلم لیڈر کیا فیصلہ لیتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan