وقف ترمیمی بل پر بی جے پی کی منافقت بے نقاب: ادھو ٹھاکرے
ہم نے پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل کے خلاف ووٹ دے کر بی جے پی کی زیرقیادت حکومت کی زمین ہتھیانے اور اسے اپنے صنعتکار دوستوں کو دینے کی چال کی مخالفت کی ممبئی ، 3 اپریل (ہ س)شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے جمعرات
Uddhav Slams BJP Over Waqf Bill Vote


ہم نے پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل کے خلاف

ووٹ دے کر بی جے پی کی زیرقیادت حکومت کی زمین ہتھیانے اور اسے اپنے صنعتکار

دوستوں کو دینے کی چال کی مخالفت کی

ممبئی ، 3 اپریل (ہ س)شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے

جمعرات کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی

پارٹی نے پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل کے خلاف ووٹ دے کر حکومت کی زمین

ہتھیانے اور اپنے صنعتکار دوستوں کو فائدہ پہنچانے کی سازش کو بے نقاب کیا

ہے۔ انہوں نے کہا کہ بل پر بحث کے دوران بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے

ظاہر کی گئی تشویش اتنی حیران کن تھی کہ وہ پاکستان کے بانی محمد علی

جناح کو بھی شرمندہ کر سکتی ہے۔

لوک سبھا میں بل کی منظوری کے فوری بعد

ممبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ بی جے پی مسلسل

تیسری بار مرکز میں حکومت بنا چکی ہے، اس کے باوجود وہ ہندو مسلم مسائل کو ہوا

دینے میں مصروف ہے۔ انہوں نے بی جے پی کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی

مسلمانوں سے اتنی دشمنی ہے تو اپنی پارٹی کے جھنڈے سے سبز رنگ ہٹا دے۔

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ بی جے پی کے

رہنماؤں نے بل کے حق میں بولتے ہوئے مسلمانوں کو خوش کرنے والے بیانات دیے، لیکن

بل کے خلاف ووٹ دینے والوں پر تنقید کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر مسلمانوں کو خوش

کرنا ہی بی جے پی کا مقصد ہے تو پھر ہندوتوا کو کس نے ترک کیا، بی جے پی نے یا وہ

لوگ جنہوں نے بل کی مخالفت کی؟

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی نے

بی جے پی کی دوغلی سیاست اور زمین پر قبضے کے ارادوں کے

خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بل کے خلاف ووٹ دیا۔ ٹھاکرے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو

بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں ملک کو امریکی ٹیرف کی وجہ سے پیدا ہونے والے

اقتصادی مسائل پر اعتماد میں لینا چاہیے تھا اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے کیے

جانے والے اقدامات پر بات کرنی چاہیے تھی، لیکن وہ اس اہم معاملے پر خاموش رہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / نثار احمد خان


 rajesh pande