وقف ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر میں شدید ردعمل
ممبئی ، 3 اپریل (ہ س)لوک سبھا میں بدھ کی رات تقریباً 12 گھنٹے کی
طویل بحث اور دلائل کے بعد منظور کیے گئے وقف (ترمیمی) بل 2025 کے خلاف ملک بھر
میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دینی و ملی تنظیموں، مسلم قائدین اور سیکولر
نظریات رکھنے والی شخصیات نے اس بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے مذہبی
امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔ وہیں، جن سیاسی جماعتوں اور ارکان پارلیمنٹ نے اس بل
کے خلاف آواز بلند کی، ان کی حمایت میں بھی بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید
نوری، علماء بورڈ اور دیگر معزز شخصیات نے ان تمام ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ ادا
کیا جنہوں نے اس بل کی مخالفت کر کے اپنے حقیقی سیکولر ہونے کا ثبوت دیا۔ محمد
سعید نوری نے خاص طور پر ادھو ٹھاکرے اور ان کی پارٹی شیو سینا (ٹھاکرے) کا ذکر
کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نازک وقت میں حقیقت پسندانہ مؤقف اختیار کیا اور ممکنہ
دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے حق کا ساتھ دیا۔
آل انڈیا علماء بورڈ کے قومی جنرل
سیکرٹری علامہ بونئی حسنی نے پارلیمنٹ میں وقف بل کی منظوری کی سخت مذمت کرتے ہوئے
ان تمام ارکان کی ستائش کی جنہوں نے ملت کے حق میں آواز بلند کی۔ انہوں نے خاص طور
پر شیوسینا (ٹھاکرے) کے ارکان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ادھو ٹھاکرے اور ان کی
پارٹی نے مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہوکر واضح پیغام دیا کہ وہ حقیقی سیکولر اقدار پر
یقین رکھتے ہیں۔ علامہ بونئی حسنی نے اعلان کیا کہ آل انڈیا علماء بورڈ جلد ہی اس
بل کے خلاف ملک گیر احتجاجی مہم شروع کرے گا۔
اورنگ آباد میں مسلم نمائندہ کونسل کے
صدر ضیاء الدین صدیقی نے بھی ان ارکان پارلیمنٹ کی تعریف کی جنہوں نے بل کی مخالفت
میں مدلل بات کی اور کھل کر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ خود کو
سیکولر کہتے ہیں اور مسلمانوں کے حقوق کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن اہم مواقع
پر خاموش رہتے ہیں، انہیں اب پہچاننا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلمانوں کو ان
سیاسی رہنماؤں سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ جب وقف بل منظور ہو رہا تھا، تب وہ کہاں
تھے اور انہوں نے اس کے خلاف ووٹ کیوں نہیں دیا؟
ضیاء الدین صدیقی نے مزید کہا کہ اب
وقت آ گیا ہے کہ مسلمان اپنے حقیقی حامیوں اور مخالفین میں تمیز کریں اور اپنے
حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد تیز کریں۔
واضح رہے کہ اس بل کے حق میں 288 ووٹ
ڈالے گئے جبکہ 232 ارکان پارلیمنٹ نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / نثار احمد خان