نئی دہلی، یکم اپریل (ہ س)۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی قیادت والی بنچ نے سنبھل کی شاہی جامع مسجد کی سفیدی کرانے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔مسجد کمیٹی نے الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں مسجد کی بیرونی دیواروں کی سفیدی کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس پر ہائی کورٹ نے مارچ میں اے ایس آئی کو مسجد کی بیرونی دیواروں کی سفید ی کرنے کی اجازت دی تھی۔اس سے قبل 29 نومبر 2024 کو سپریم کورٹ نے سنبھل کی ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی تھی کہ جب تک الہ آباد ہائی کورٹ کوئی ہدایت نہیں دیتی جامع مسجد تنازعہ کیس پر کوئی کارروائی نہ کرے۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مسلم پارٹی سروے آرڈر کے خلاف ہائی کورٹ جا سکتی ہے۔ عدالت نے کہا تھا کہ ٹرائل کورٹ الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کرے گی۔ستیش کمار اگروال نے عرضی داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ سنبھل جامع مسجد کا معاملہ ابھی عدالت میں زیر التوا ہے، ایسی صورت حال میں بھگوان کالکی کے ہری ہر مندر کا دعویٰ کرنے والے درخواست گزاروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ کمشنر کی رپورٹ سیل رکھنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ اس رپورٹ کو فی الحال پبلک نہ کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ عبادت گاہوں کے قانون پر الگ سے سماعت چل رہی ہے اور اس معاملے کو وہیں رکھا جائے گا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan