شام پر اسرائیل کے حملے سے امریکہ ناراض،کہا سکیورٹی معاہدہ کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے
واشنگٹن،02دسمبر(ہ س)۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ شام میں اسرائیل کے مسلسل حملے ملک کے عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں اور اسرائیل اور شام کے درمیان ممکنہ سکیورٹی معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ یہ انکشاف م
شام پر اسرائیل کے حملے سے امریکہ ناراض،کہا سکیورٹی معاہدہ کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے


واشنگٹن،02دسمبر(ہ س)۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ شام میں اسرائیل کے مسلسل حملے ملک کے عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں اور اسرائیل اور شام کے درمیان ممکنہ سکیورٹی معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ یہ انکشاف منگل کو ویب سائٹ اکسیوس کو دو اعلیٰ امریکی حکام نے کیا۔ایک سینئر امریکی ذمہ دار کے مطابق واشنگٹن نے وزیراعظم اسرائیل بنجمن نیتن یاھو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں حملے روکیں، کیونکہ ”اگر وہ ایسا ہی کرتے رہے تو خود اپنا سیاسی نقصان کریں گے اور ایک بڑا سفارتی موقع گنوا بیٹھیں گے“۔حکام نے مزید بتایا کہ وائٹ ہاو¿س کو گذشتہ جمعے کو شام کے جنوبی قصبے بیت جن میں ہونے والی اسرائیلی کارروائی کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ اکسیس کے مطابق امریکہ کے شام کے لیے خصوصی مندوب ٹام باراک اور ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر اہلکاروں نے جمعے سے اسرائیلی ہم منصبوں کے ساتھ شام کے حوالے سے سخت اور کشیدہ نوعیت کی بات چیت کی ہے۔امریکی حکام نے مزید بتایا کہ انہوں نے شام کے حکام کے ساتھ بھی رابطے کیے تاکہ مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔گذشتہ جمعے کی صبح اسرائیلی بمباری نے جنوبی شام کے علاقے بیت جن کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق اور 13 اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے تھے۔شام کی وزارت خارجہ کے تزویراتی امور کے محقق عبیدہ غضبان نے اتوار کو بتایا کہ اسرائیل بشار الاسد کے نظام کے آٹھ دسمبر 2024ءکو خاتمے کے بعد سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ فضائی حملے کر چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ امریکہ شام میں حاصل ہونے والے نتائج سے مکمل طور پر مطمئن ہے اور یہ پیش رفت سخت محنت اور عزم کا نتیجہ ہے۔انہوں نے اپنی پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ شامی حکومت اس ہدایت پر عمل کرتی رہے جو ایک مضبوط اور خوشحال ریاست کی تعمیر کے لیے بنیادی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کے لیے ضروری ہے کہ وہ شام کے ساتھ مضبوط اور حقیقی مکالمہ برقرار رکھے اور ایسا کوئی اقدام نہ ہو جو شام کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بنے۔یہ بھی بتایا گیا کہ سابق شامی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے سنہ 1974 کی بفر زون لائن پار کرتے ہوئے جنوب شام میں اپنی فوج اور عسکری ساز و سامان تعینات کیا ہے، جس میں جبل الشیخ کی اسٹریٹجک نگرانی کی چوکی بھی شامل ہے۔امریکہ کی ثالثی میں شام اور اسرائیل کے حکام کے درمیان ہونے والے چھ مذاکراتی دور کسی سکیورٹی معاہدے پر منتج نہ ہو سکے جن کا مقصد سرحدی علاقوں میں استحکام لانا تھا۔ رائٹرز کے مطابق مذاکرات سنہ ستمبر 2025 سے رکے ہوئے ہیں۔اسرائیل نے شام کی نئی حکومت جس کی قیادت صدر احمد الشرع کر رہے ہیں، پر گہرا عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے خواہش ظاہر کی ہے کہ جنوب شام کو غیر مسلح ہونا چاہیے۔تاہم صدر الشرع نے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شام خطے یا دنیا کی کسی بھی ریاست کے لیے خطرہ نہیں ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande