کانگریس نے آر یو پی پی کے ذریعے 10 ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام لگایا، جے پی سی سے تحقیقات کا مطالبہ
نئی دہلی، 09 ستمبر (ہ س)۔ کانگریس نے رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں (آر یو پی پی) کے ذریعے 10 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی کالے دھن کو سفید کرنے اور بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی نے پورے معاملے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پ
کانگریس نے آر یو پی پی کے ذریعے 10 ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام لگایا، جے پی سی سے تحقیقات کا مطالبہ


نئی دہلی، 09 ستمبر (ہ س)۔

کانگریس نے رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں (آر یو پی پی) کے ذریعے 10 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی کالے دھن کو سفید کرنے اور بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی نے پورے معاملے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے تحقیقات کرانے اور جعل سازی میں ملوث تمام فرضی عطیہ دہندگان، سیاسی جماعتوں اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کانگریس کے قومی ترجمان شکتی سنگھ گوہل نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ ملک میں 3,260 رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتیں بنا کر تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکس گھوٹالا کیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی مبینہ ’سی ٹیم‘ نے مل کر یہ منظم کھیل کھیلا ہے، جس کے تحت 5 کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی والے ارب پتیوں کے کالے دھن کو سفید کرایا گیا۔

گوہل نے کہا کہ 5 کروڑ روپے سے زیادہ کی سالانہ آمدنی پر 30 فیصد بنیادی ٹیکس، 37 فیصد سرچارج اور 4 فیصد سیس ملا کر کل 42.7 فیصد سے زیادہ ٹیکس بنتا ہے۔ اس ٹیکس سے بچنے کے لیے عوامی نمائندگی قانون اور انکم ٹیکس قانون کی دفعات کا غلط استعمال کیا گیا۔ انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 80جی سی سی (افراد کے لیے) اور دفعہ 80جی جی بی (کمپنیوں کے لیے) کے تحت سیاسی جماعتوں کو دیے جانے والے چندے پر 100 فیصد ٹیکس چھوٹ ملتی ہے۔ اسی چھوٹ کی آڑ میں فرضی سیاسی جماعتوں کو کروڑوں روپے کا چندہ دیا گیا اور 2 سے 15 فیصد تک کمیشن کاٹ کر باقی رقم نقد واپس کر دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سنگین جعل سازی کے لیے انکم ٹیکس قانون میں سخت قانونی دفعات موجود ہیں۔ انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 270A(9) کے تحت جان بوجھ کر جھوٹی انٹری اور ٹیکس چوری کرنے پر 200 فیصد جرمانہ، دفعہ 276C(1) اور دفعہ 277 کے تحت فوجداری مقدمہ اور 7 سال تک قید کی واضح گنجائش ہے۔ اس کے باوجود انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل (آئی ٹی اے ٹی) کی جانب سے اس جعل سازی کی تصدیق کیے جانے اور میڈیا میں انکشافات کے بعد بھی حکومت نے قصورواروں کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی۔

گوہل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سال 2014 میں ہی سیاسی جماعتوں کے چندے اور اخراجات میں شفافیت کے سلسلے میں تفصیلی رہنما خطوط جاری کیے تھے، جن کے تحت ایسی جماعتوں کے تمام لین دین کی تفصیلات ویب سائٹ پر عوامی طور پر دستیاب ہونی چاہییں تھیں، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جھارکھنڈ سمیت کئی ریاستوں میں انکم ٹیکس محکمے کے افسران نے ملوث چارٹرڈ اکاو¿نٹنٹس اور فرضی جماعتوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کی سفارش کی تھی، لیکن اقتدار کے اشارے پر تحقیقات کو دبا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس اس پورے سنڈیکیٹ کی تحقیقات کے لیے فوری طور پر جے پی سی کی تشکیل کا مطالبہ کرتی ہے۔ ساتھ ہی تمام فرضی عطیہ دہندگان پر 200 فیصد قانونی جرمانہ عائد کیا جائے، ملوث افراد اور سی اے کے خلاف 7 سال کی سزا والی دفعات کے تحت فوجداری مقدمات درج کیے جائیں، اور چندہ دینے والے افراد اور کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ان جماعتوں کے منتظمین میں سے بی جے پی کے عہدیدار بننے والے لوگوں کی مکمل فہرست عوام کے سامنے لائی جائے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande