
نئی دہلی، 09 ستمبر (ہ س):
امریکہ اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر دوبارہ حملے شروع کیے جانے کے باعث مغربی ایشیا میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اس کشیدگی کے سبب بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت تیزی سے بڑھنے لگی ہے۔ آج بین الاقوامی بازار میں برینٹ کروڈ اچھل کر 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گیا۔ 24 جولائی کے بعد پہلی بار برینٹ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچی ہے۔
برینٹ کروڈ کی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ، یعنی ڈبلیو ٹی آئی کروڈ بھی آج 95 ڈالر فی بیرل کی سطح کو پار کرتے ہوئے 96 ڈالر فی بیرل کے قریب کاروبار کرتا نظر آیا۔
برینٹ کروڈ نے آج 1.53 ڈالر کے اضافے کے ساتھ 99.45 ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار شروع کیا۔ ٹریڈنگ شروع ہونے کے بعد یہ کچھ دیر کے لیے پھسل کر 98.82 ڈالر فی بیرل کی سطح تک بھی آ گیا، لیکن تھوڑی دیر بعد اس کی رفتار میں تیزی آ گئی۔ قیمت میں اس اضافے کے باعث برینٹ کروڈ دیکھتے ہی دیکھتے 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کو بھی پار کرتے ہوئے 100.98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
بھارتی وقت کے مطابق شام 6:30 بجے برینٹ کروڈ 2.78 ڈالر فی بیرل، یعنی 2.84 فیصد کے اضافے کے ساتھ 100.70 ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار کر رہا تھا۔
اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی کروڈ نے آج 1.56 ڈالر فی بیرل کے اضافے کے ساتھ 94.59 ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار شروع کیا۔ اوپننگ کے فوراً بعد یہ گر کر کچھ دیر کے لیے 93.76 ڈالر فی بیرل تک آ گیا، لیکن اس کے بعد اس کی رفتار میں تیزی آ گئی۔ کچھ ہی دیر میں یہ اچھل کر 95.96 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔ تاہم بعد میں اس کی قیمت میں معمولی گراوٹ بھی درج کی گئی۔
بھارتی وقت کے مطابق شام 6:30 بجے ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 2.82 ڈالر فی بیرل، یعنی 3.03 فیصد کے اضافے کے ساتھ 95.85 ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار کر رہا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ امریکہ نے ایران پر ایک امریکی جنگی جہاز پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے منگل کو ایران کے پانچ آئل ٹینکروں کو حملہ کرکے تباہ کر دیا تھا۔ امریکی حملے کے جواب میں ایران نے بھی اردن میں موجود امریکی اڈے کو نشانہ بنایا۔ ایران نے خلیج فارس میں موجود دیگر جہازوں کے لیے بھی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کسی بھی وقت نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اس لیے ان جہازوں کے عملے کے ارکان جہاز چھوڑ کر نکل جائیں۔
دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر حملے اور ایران کی جانب سے دیگر جہازوں پر بھی حملہ کرنے کی دھمکی کے بعد مغربی ایشیا میں کشیدگی سنگین صورت اختیار کر گئی ہے۔ اس کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ کے ممالک سے ہونے والی خام تیل کی سپلائی ایک بار پھر متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس خوف کا اثر بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کی صورت میں صاف طور پر نظر آنے لگا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ