ندیوں میں مختلف مقامات پر پانی کی سطح میں کمی ، سیلاب متاثرین کو راحت
پٹنہ، 8 ستمبر(ہ س)۔ بہار میں سیلاب کی صورتحال کے درمیان بڑی ندیوں سے پانی کے اخراج میں کمی اور استحکام کی وجہ سے کچھ راحت کی امید ہے۔ آفات مینجمنٹ محکمہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ریاست کی بڑی ندیوں کوسی اور سون میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے، جب کہ گنڈک
گوراڈیہ میں سیلاب  کا قہر، دو درجن گاؤں میں پانی داخل، بھاگلپور-گورادھی سڑک دو فٹ پانی میں ڈوبا


پٹنہ، 8 ستمبر(ہ س)۔ بہار میں سیلاب کی صورتحال کے درمیان بڑی ندیوں سے پانی کے اخراج میں کمی اور استحکام کی وجہ سے کچھ راحت کی امید ہے۔ آفات مینجمنٹ محکمہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ریاست کی بڑی ندیوں کوسی اور سون میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے، جب کہ گنڈک ندی کابہائو مستحکم ہے۔ سیلاب کے اس بحران کے درمیان، ریاست میں 10 لاکھ سے زیادہ متاثرہ لوگوں میں صبح و شام کھانا تقسیم کیا گیا ہے۔ محکمہ مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہواہے۔ متاثرہ علاقوں میں پوری چوکسی کے ساتھ راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔

اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو منگل کی صبح 10 بجے ویر پور بیراج پر کوسی ندی کا اخراج 169,985 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جو کہ ایک کمی کا رجحان ہے۔ اسی طرح اندر پوری بیراج پرسون ندی کا اخراج 14758 کیوسک ریکارڈ کیا گیا اور یہ رجحان بھی کم ہو رہا ہے۔ والمیکی نگر بیراج پر گنڈک ندی کا بہائو 14400 کیوسک ریکارڈ کیا گیا اور یہ رجحان مستحکم ہے۔ دریں اثنا، بھاگلپور کے سلطان گنج میں گنگا ندی کے پانی کی سطح 36.80 میٹر ریکارڈ کی گئی، جو اس کی گزشتہ بلند ترین سیلاب کی سطح (17 اگست 2021 کو 36.75 میٹر) سے 0.05 میٹر زیادہ ہے، لیکن اس کا رجحان مستحکم ہے۔ تاہم، گنڈک، کوسی، بوڑھی گنڈک، گنگا، پنپن، باگمتی، اورگھاگھرا ندیاں کئی دیگر مقامات پر خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ واضح رہے کہ ریاست کے 13 اضلاع: پٹنہ، بھوجپور، سارن، ویشالی، بھاگلپور، بیگوسرائے، بکسر، سمستی پور، مونگیر، کٹیہار،کھگڑیا، ارول کے 79 بلاکس کے 480 گرام پنچایتوں میں لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ افراد کی سہولت کے لیے 432 کمیونٹی کچن چلائے جا رہے ہیں اور اب تک 10 لاکھ سے زائد لوگوں کو کھانا فراہم کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ 14 ریلیف کیمپوں نے 12,294 سیلابی پناہ گزینوں کو رہائش، خوراک اور طبی دیکھ بھال فراہم کی ہے۔ بچوں کو دودھ اور خواتین میں سینیٹری کٹس تقسیم کی جا رہی ہیں۔

محکمہ کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد میں پولی تھین شیٹس اور 22,900 خشک راشن کے پیکٹ تقسیم کیے گئے ہیں۔ 3,142 کوئنٹل مویشیوں کا چارہ تقسیم کیا گیا ہے۔ آمدورفت کی سہولت کے لیے 1,832 کشتیاں چلائی جا رہی ہیں۔ فوری بچاؤ کے لیے ایس ڈی آر ایف کی 27 ٹیمیں اور این ڈی آر ایف کی 10 ٹیمیں مختلف اضلاع میں تعینات کی گئی ہیں۔ دریں اثنا، ریاست میں بارش کے حوالے سے محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی کے مطابق، یکم جون سے 8 ستمبر تک ریاست میں 601 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ معمول سے 27 فیصد کم ہے۔ تاہم اب تک ستمبر کے مہینے میں معمول سے 31 فیصد زیادہ بارش ہو چکی ہے۔ اگلے 2 دنوں میں ریاست میں کئی مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش اور بعض مقامات پر موسلادھار بارش کی توقع ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande