ڈی جے کے شور پر ادھو ٹھاکرے کا حکومت پر حملہ، پورے مہاراشٹر کے لیے یکساں پالیسی بنانے کا مطالبہ
ڈی جے کے شور پر ادھو ٹھاکرے کا حکومت پر حملہ، پورے مہاراشٹر کے لیے یکساں پالیسی بنانے کا مطالبہ ممبئی، 8 ستمبر (ہ س)۔ مہاراشٹر میں ڈی جے اور ڈولبی ساؤنڈ کو لے کر سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے۔ شیوسینا ادھو بالا صاحب ٹھاکرے کے سربراہ اور سابق وزیر ا
Uddhav Thackeray Demands Uniform DJ Policy


ڈی جے کے شور پر ادھو ٹھاکرے کا حکومت پر حملہ، پورے مہاراشٹر کے لیے یکساں پالیسی بنانے کا مطالبہ

ممبئی، 8 ستمبر (ہ س)۔ مہاراشٹر میں ڈی جے اور ڈولبی ساؤنڈ کو لے کر سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے۔ شیوسینا ادھو بالا صاحب ٹھاکرے کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے ڈی جے اور ڈولبی کے معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تہواروں کا روایتی انداز برقرار رہنا چاہیے، لیکن جشن کو ایسے شور میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے جس سے عام لوگوں کو پریشانی ہو۔ انہوں نے پورے مہاراشٹر کے لیے ڈی جے اور صوتی آلودگی سے متعلق یکساں پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا۔

ادھو ٹھاکرے نے منگل کو کہا کہ لوک مانیہ تلک نے گنیش اتسو کی شروعات کی تھی اور اسے سماجی بیداری کے ساتھ ساتھ ملک کی آزادی کی تحریک کی شکل دی تھی۔ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ایک ساتھ لانا اور انہیں آزادی کی تحریک میں شامل کرنا تھا۔ بعد میں یہی سرگرمی ایک تہوار کی شکل اختیار کرگئی۔ انہوں نے کہا کہ اب بعض مقامات پر یہی تہوار شور شرابے میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ گنیش وسرجن جلوس میں چند برس قبل ایک خاص قسم کا ڈانس شروع کیا گیا تھا، لیکن لوگوں کی مخالفت کے بعد اسے بند کردیا گیا۔ ادھو نے کہا کہ آرتی، جھانجھ اور گھنٹیوں جیسے روایتی طریقوں سے بھی تہوار کی خوشی دوبالا ہوتی ہے، تو پھر تیز آواز والے ڈی جے اور صوتی آلودگی پر اتنا زور کیوں دیا جائے۔

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ تہوار لوگوں کی خوشی کے لیے ہونے چاہئیں، لوگوں کو پریشان کرنے کے لیے نہیں۔ ان کے مطابق جشن مناتے وقت عام شہریوں کی سہولت اور سکون کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے پاس محکمہ داخلہ کی ذمہ داری بھی ہے۔ انہیں ریاست کے تمام متعلقہ کمشنروں کے ساتھ میٹنگ کرکے پورے مہاراشٹر کے لیے ایک یکساں پالیسی طے کرنی چاہیے۔ ادھو نے سوال اٹھایا کہ اگر ناگپور، پونے اور پنویل جیسی جگہوں پر الگ الگ فیصلے کیے جارہے ہیں تو پھر پورے ریاست کے لیے ایک جیسے قوانین کیوں نہیں بنائے جاسکتے۔

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ صوتی آلودگی کے حوالے سے پہلے ہی ڈیسی بل کی حد مقرر ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان قوانین پر عمل کیسے کرایا جائے گا اور انہیں نافذ کرنے کی ذمہ داری کس کی ہوگی۔ انہوں نے حکومت سے اس معاملے پر واضح موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ شیوسینا کے نام اور تیر کمان انتخابی نشان سے متعلق سپریم کورٹ میں جاری سماعت پر ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ یہ مطلب نکالنا درست نہیں ہے کہ وکیل کپل سبل نے انتخابی نشان منجمد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ شیوسینا کا نام اور تیر کمان انتخابی نشان انہیں ملنا چاہیے اور اسی کے لیے قانونی لڑائی جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر فیصلے میں تاخیر ہورہی ہے تو متعلقہ انتخابی نشان کو عارضی طور پر منجمد کرنے کا متبادل اس لیے دیا گیا تھا تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہوسکے۔ ادھو ٹھاکرے نے الزام عائد کیا کہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے انتخابی نشان اور پارٹی کے نام کا غلط استعمال کیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande