
امریلی، 8 ستمبر (ہ س)۔ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے کم وقت میں غیر معمولی مالی منافع کا لالچ دے کر گجرات سمیت ملک بھر کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد سرمایہ کاروں سے کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی کرنے والے ایک گروہ کا امریلی سائبر کرائم پولیس نے پردہ فاش کیا ہے۔ ایس ڈی پے اور اپنا پے موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے تقریباً 634 کروڑ روپے کے مالی گھوٹالے کے معاملے میں خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے کمپنی کے آپریٹر سمیت چھ ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس کی تفتیش کے مطابق ملزمان نے ایس ڈی پے موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے لوگوں کو ایک ہزار روپے سے لے کر پانچ لاکھ روپے سے زائد رقم سرمایہ کاری کرنے کے لئے متوجہ کیا گیا۔ سرمایہ کاری پر روزانہ 0.15 فیصد سے 0.30 فیصد تک منافع دینے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی 15 مختلف سطحوں تک 3 فیصد سے 30 فیصد تک ریفرل ترغیبی رقم دینے کا لالچ دے کر لوگوں کو جوڑنے کا ایک وسیع نیٹ ورک تیار کیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ اس موبائل ایپلی کیشن کو 10 لاکھ سے زائد مرتبہ ڈاو¿ن لوڈ کیا گیا تھا۔ ملزمان نے اپنے ریفرل نیٹ ورک کے ذریعے تقریباً ڈیڑھ لاکھ سے پونے دو لاکھ افراد کو اس سے جوڑا اور ان سے سرمایہ کاری کرائی۔ اس کے بعد سرمایہ کاروں کی رقم ہڑپ کر لی گئی۔
فرضی کمپنیاں قائم کرکے رقم کی منتقلی
اس معاملے میں امریلی سائبر کرائم تھانے میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے علاوہ غیر منظم جمع اسکیموں پر پابندی کے قانون، گجرات جمع کنندگان کے مفادات کے تحفظ کے قانون اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ معاملے کی تفتیش کے لیے خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی۔
تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزمان نے رقم وصول کرنے اور اسے مختلف مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ایس ڈی ہب، شیو دھرتی کمیونیکیشن اور اپائے ڈیجی پے منٹ انڈیا سمیت کئی فرضی کمپنیاں قائم کی تھیں۔ ان کمپنیوں سے منسلک تقریباً 15 بینک کھاتوں میں 634 کروڑ روپے کی بھاری رقم جمع ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ملزمان کے 30 سے 35 ذاتی بینک کھاتے بھی تفتیش کے دائرے میں آئے ہیں۔
امریلی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجے کھرات نے بتایا کہ ملزمان نے اپنی سرمایہ کاری اسکیم کی تشہیر کے لیے مہسانہ، احمد آباد، گاندھی نگر، وڈودرا سمیت شمالی اور وسطی گجرات کے اہم شہروں کے ہوٹلوں کے ضیافتی ہالوں میں بڑے پیمانے پر سیمینار منعقد کیے تھے۔ ان پروگراموں کے ذریعے لوگوں کو سرمایہ کاری کے لیے راغب کیا جاتا تھا۔
قومی سائبر کرائم رپورٹنگ نظام کے ذریعے کی گئی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ گروہ سے منسلک 12 بینک کھاتوں کے خلاف ملک بھر سے سائبر فراڈ کی 83 شکایات درج ہیں۔ فی الحال خصوصی تفتیشی ٹیم کی جانب سے گروہ سے وابستہ دیگر کمپنیوں، بینک کھاتوں اور پورے مالیاتی نیٹ ورک کی گہرائی سے جانچ کی جا رہی ہے۔
اس معاملے میں پولیس نے چھ ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں جن میںسوریہ سنگھ راٹھوڑ (24)، مانسا، گاندھی نگر کا رہائشی، آشیش گڈیا (38)، اصل رہائشی ساورکنڈلا، فی الحال سورت میں مقیم، بھاویش چوہان (41)، اصل رہائشی ساورکنڈلا، فی الحال سورت میں مقیم،نشی پرساد (47)، مہسانہ کی رہائشی، اصل تعلق بہار سے، سہیل مکوانا (26)، مہسانہ کا رہائشی،نیرو کمار پٹیل (32)،بالول، مہسانہ کا رہائشی شامل ہیں ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد