
یومیہ 2.32 لاکھ ہدف کے مقابلے صرف 29ہزار ووٹرس سماعت کیلئے حاضرحیدرآباد، 8 ستمبر(ہ س)۔
ریاست تلنگانہ میں ووٹرفہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر)عمل کے دوران ووٹرلسٹ کی درستگی اورتصدیق کےعمل میں شدیدعوامی عدم دلچسپی اوربے حسی کے باعث لاکھوں ووٹرس کے نام فائنل ووٹرلسٹ سے خارج ہونے کا سنگین بحران پیدا ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے احکامات کے مطابق تمام اضلاع کے (ڈی ای اوز) اور (ای آراوز) کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ روزآنہ اوسطاً 2.32 لاکھ ووٹرس کی سماعت اورتصدیق کو یقینی بنائیں لیکن اب تک کے اعدادوشمارکے مطابق یومیہ صرف 29 ہزارووٹرس سماعت کیلئے آگے آرہے ہیں۔ ریاست بھرمںجملہ 92.88لاکھ ووٹرس کونوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیاگیا،جن میں سے 47.79 لاکھ ووٹرس کواب تک نوٹس جاری کی جاچکی ہے جبکہ مزید 45.08 لاکھ ووٹرس کونوٹس،پرنٹنگ اوراس کی تقسیم زیرالتواء ہیں جن کی تکمیل کیلئے کم ازکم مزید 15 دن درکارہوں گے۔ الیکشن حکام اورشیڈول کے مطابق اب تک تقریباً 40لاکھ ووٹرس کو سماعت میں حاضر ہونا چاہیئے تھا مگرافسوسناک طورپرصرف 5.74 لاکھ ووٹرس ہی سامنے آئے ہیں جبکہ 32.39 لاکھ سے زائدووٹرس مقررہ تاریخ اوروقت پرحاضر نہیں ہوسکے جس کی وجہ سے ان کے ووٹ منسوخ ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔علاوہ ازیں 8.269 افراد نے اپنی نوٹس کیلئے نئی تواریخ کا مطالبہ کیا ہے۔انتخابی اصلاحات کی اس خصوصی مہم کے دوران سست روی کے خلاف الیکشن کمیشن نے شعوربیداری کیمپس کا بھی انعقاد کیا ہے تاکہ شہری ووٹر لسٹ میں اپنے نام، پتہ،عمروغیرہ کی غلطیوں کو درست کراسکے لیکن عوامی لاپرواہی کا عالم یہ رہا کہ ضلع رنگاریڈی کے اسمبلی حلقہ شیر لنگم پلی میں واقع گچی باؤلی منڈل پریشد اسکول پولنگ بوتھ پرصبح سے شام تک بی ایل اوزاورعملہ خالی کرسیوں پر انتظارکرتارہااورپورے دن میں ایک بھی شخص اپنے دستاویزات دکھانے نہیں آیا۔۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق