تلنگانہ میں بائیک ٹیکسی چلانے والوں کو نئی مشکل
تلنگانہ میں بائیک ٹیکسی چلانے والوں کو نئی مشکلحیدرآباد، 8 ستمبر(ہ س)۔ تلنگانہ میں بائیک ٹیکسی چلانے والوں کے لئے نئی مشکل پیدا ہونے جا رہی ہے۔ بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوان جن کی اپنی بائیک موجود ہے وہ اپنے فاضل وقت میں ریپیڈو، اولا یا اوبر چلاتے
تلنگانہ میں بائیک ٹیکسی چلانے والوں کو نئی مشکل


تلنگانہ میں بائیک ٹیکسی چلانے والوں کو نئی مشکلحیدرآباد، 8 ستمبر(ہ س)۔

تلنگانہ میں بائیک ٹیکسی چلانے والوں کے لئے نئی مشکل پیدا ہونے جا رہی ہے۔ بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوان جن کی اپنی بائیک موجود ہے وہ اپنے فاضل وقت میں ریپیڈو، اولا یا اوبر چلاتے ہوئے آمدنی حاصل کررہے تھے، وہ اب اپنی خانگی بائیک پریہ ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہوئے آمدنی حاصل نہیں کرپائیں گے۔ حکومت نے ’’بائیک ٹیکسی‘‘میں محض ان بائیکس یا گاڑیوں کواستعمال کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے جن کے پاس ’’ٹیکسی پلیٹ‘موجود ہے یعنی جوموٹرسیکل یابائیک ’’یلوپلیٹ‘‘ رکھتے ہیں۔ ان گاڑیوں کو ہی مذکورہ ایپ پررجسٹر کروایا جا سکتا ہے اور اپنے فاضل اوقات یاطویل مسافت کے دوران ان خدمات کی انجام دہی کے ذریعہ معمولی آمدنی یا اپنے اخراجات پورے کرنے کی غرض سے بائیک ٹیکسی چلانے والے نوجوانوں کو اب مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ذرائع کے مطابق محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے کی جانے والی منصوبہ بندی میں اس بات کو یقینی بنانے کے اقدامات کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ’بائیک ٹیکسی‘چلانے والوں کی بہ آسانی نشاندہی ہو سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ موٹر سائیکل ‘یا بائیک کے لئے ’’ایلوپلیٹ‘‘ حاصل کرنے اوراسے ازسرنورجسٹریشن کروانے کے لئے فی موٹرسائیکل 3000 روپئے ادا کرنے ہوں گے۔ بتایا جاتاہے کہ اس کے علاوہ ’ایلوپلیٹ‘ بائیک ٹیکسی سے سہ ماہی کمرشیل ٹیکس‘ سہ ماہی گرین ٹیکس‘فٹنس کی جانچ کے سرٹیفیکیٹ کی اجرائی کے علاوہ دیگرفیس وصول کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے علاوہ ازیں انہیں پرمٹ فیس کے طورپرعلحدہ رقم ادا کرنی ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کی جانے والی اس منصوبہ بندی کے بعد دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآبادمیں چلائی جانے والی زائد از 18ہزار بائیک ٹیکسی سڑکوں سے غائب ہوجائیں گی کیونکہ بیشترنوجوان مستقل ریپیڈو، اولا یا اوبر کے ساتھ کام نہیں کرتے بلکہ اپنی ملازمت کے اوقات کے بعد اپنی گاڑی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اضافی آمدنی و اخراجات کے لئے اس پیشہ سے وابستہ ہیں لیکن اگر ان کی ’بائیک ٹیکسی ‘کو ’ایلو پلیٹ‘ لگائی جاتی ہے اور ان سے اضافی فیس کے علاوہ متعدد ٹیکس عائد کئے جاتے ہیں تو وہ نوجوان جو محض اضافی آمدنی یا بحالت مجبوری ان خدمات سے وابستہ ہوتے ہوئے اپنے اخراجات کی پابجائی کررہے تھے وہ اس شعبہ سے غائب ہوجائیں گے۔۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande