
مراٹھا ریزرویشن پر منوج جرنگے کا وکھے پاٹل پر شدید حملہ، حکومت نے ضروری فیصلے کیے ہیں وکھے پاٹل کا جواب
ممبئی، 8 ستمبر (ہ س)۔ مراٹھا ریزرویشن کے معاملے پر منوج جرنگے پاٹل اور مراٹھا ریزرویشن کابینہ ذیلی کمیٹی کے صدر رادھا کرشن وکھے پاٹل کے درمیان الزام تراشی اور جوابی حملوں کا سلسلہ ایک بار پھر تیز ہوگیا ہے۔ منوج جرنگے نے وکھے پاٹل کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ مراٹھا برادری کے مسائل پر حکومت سے جواب طلب کریں اور سماج کے مفاد کے لیے اپنے وزارت کے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ دوسری جانب وکھے پاٹل نے کہا کہ حکومت نے مراٹھا برادری کے معاملے میں ضروری فیصلے کیے ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی شروع ہوچکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جرنگے کے مطالبات پر حکومت کی جانب سے کوششیں جاری ہیں۔
جرنگے پاٹل نے وکھے پاٹل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں 'پَلپُٹا' قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی بات مان کر وکھے پاٹل نے مراٹھا برادری کا نقصان کیا ہے۔ جرنگے نے کہا کہ ابتدا میں یہ توقع تھی کہ وکھے پاٹل مراٹھا سماج کے مسائل کے لیے کام کریں گے، لیکن ان کے مطابق کابینہ ذیلی کمیٹی کے ذریعے وکھے پاٹل نے سماج کا نقصان کیا۔
جرنگے نے مطالبہ کیا کہ وکھے پاٹل کو وزیر اعلیٰ سے جواب طلب کرنا چاہیے اور مراٹھا برادری کے لیے اپنے وزارت کے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔ انہوں نے وکھے پاٹل کو یہ کہنے کی ہمت دکھانے کا چیلنج بھی دیا کہ فڑنویس انہیں مراٹھاؤں کے لیے کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ جرنگے نے حیدرآباد اور ستارا گزیٹ کے ساتھ ساتھ 58 لاکھ کنبی ریکارڈ سے متعلق سرٹیفکیٹ کے معاملے کو بھی اٹھایا اور حکومت پر تنقید کی۔ ان کا الزام ہے کہ ان مطالبات کے بارے میں یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، لیکن عملی طور پر توقع کے مطابق کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے ای سی بی سی کے معاملے پر بھی حکومت کے فیصلوں پر سوال اٹھایا۔
منوج جرنگے نے مزید الزام عائد کیا کہ مراٹھا کرانتی مورچہ، مختلف مراٹھا تنظیموں اور رابطہ کاروں کے درمیان اختلافات پیدا کرکے تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش وکھے پاٹل، بعض وزرا اور ارکان اسمبلی کی جانب سے کی گئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مراٹھا سماج کا بہت نقصان ہوچکا ہے اور اس کی ذمہ داری کا خمیازہ وکھے پاٹل کو بھگتنا پڑے گا۔ جرنگے نے یہ بھی کہا کہ وکھے پاٹل کو انترولی سراٹی نہیں آنا چاہیے۔
دوسری جانب جرنگے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے رادھا کرشن وکھے پاٹل نے کہا کہ حکومت نے مراٹھا سماج کے مسئلے پر ضروری فیصلے کیے ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی شروع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جو جو فیصلے ضروری تھے، وہ کیے جاچکے ہیں۔ اگر جرنگے ان فیصلوں سے مطمئن نہیں ہیں تو ان کی تشفی کے لیے ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔58 لاکھ کنبی ریکارڈ کے معاملے پر وکھے پاٹل نے حکومت کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ان ریکارڈ کو گرام پنچایت کی سطح پر عام کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 10 سے 17 ستمبر کے دوران منڈل وار کیمپ منعقد کیے جارہے ہیں۔وکھے پاٹل نے کہا کہ اہل افراد کو سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اب تک 522 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں، جن میں سے 224 درخواستیں سرٹیفکیٹ سے متعلق ہیں۔
مراٹھا تحریک کے ذریعے سیاست کیے جانے کے سوال پر وکھے پاٹل نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے مراٹھا سماج کے مسئلے پر پہل کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جن رہنماؤں نے مراٹھا برادری کے لیے وہ اقدامات نہیں کیے، ان کے مقابلے میں ان دونوں رہنماؤں نے اقدامات کیے ہیں تو کیا کام کرنے والوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا۔مراٹھا ریزرویشن کے معاملے پر سابقہ حکومتوں کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے وکھے پاٹل نے کہا کہ 2014 کے بعد حکومت نے مراٹھا سماج کے حوالے سے کئی فیصلے کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ادھو ٹھاکرے کے دور حکومت میں مراٹھا ریزرویشن گنوا دیا گیا تھا۔ وکھے پاٹل نے کہا کہ منوج جرنگے کو بھی اس پس منظر پر غور کرنا چاہیے۔
دریں اثنا، منوج جرنگے پاٹل نے 12 ستمبر کو ممبئی پہنچنے کا انتباہ دیا ہے۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وکھے پاٹل نے کہا کہ جرنگے کو کیا انتباہ دینا ہے، یہ ان کا معاملہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کابینہ ذیلی کمیٹی کے کام کاج کا دائرہ کچھ محدود معاملات تک ہے اور حکومت کا وفد انترولی سراٹی نہیں جائے گا۔وکھے پاٹل نے جرنگے سے بات چیت کے ذریعے حل نکالنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک قدم آگے آچکی ہے، اب جرنگے کو 2 قدم آگے آنا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت نے مثبت اقدامات کیے ہیں اور اب مسئلے کا حل نکالنے کے لیے جرنگے کو بھی حکومت کا جواب دینا چاہیے۔
مراٹھا ریزرویشن کے معاملے پر ایک طرف حکومت فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمد شروع ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب منوج جرنگے کا موقف ہے کہ تحریک کے اہم مطالبات اب بھی پورے نہیں ہوئے ہیں۔ ایسے میں 12 ستمبر کے اعلان کے پیش نظر سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ حکومت اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے کوئی حل نکلتا ہے یا تحریک مزید شدت اختیار کرتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے