
جموں, 08 ستمبر (ہ س)۔ جموں بس اسٹینڈ میں جموں ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی پارکنگ فیس میں 60 فیصد تک اضافے کے خلاف سیاسی جماعتوں اور تجارتی تنظیموں کا احتجاج تیز ہوگیا ہے۔ مختلف تنظیموں نے اضافی فیس واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی تحریک شروع کرنے کی وارننگ دی ہے۔
شیو سینا (یو بی ٹی) کے جموں و کشمیر صدر منیش ساہنی نے کہا کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں عام شہری پہلے ہی ضروری اشیا کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں، ایسے میں پارکنگ فیس میں تقریباً 60 فیصد اضافہ عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں شہر میں پہلے ہی پارکنگ کی سہولت محدود ہے۔ بس اسٹینڈ پارکنگ کی فیس میں اضافہ ہونے سے گاڑی مالکان کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر بڑھائی گئی فیس فوری واپس نہ لی گئی تو شیو سینا آنے والے دنوں میں احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔
شری رگھوناتھ بازار بزنس ایسوسی ایشن کے صدر سنجے گپتا نے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے پارکنگ فیس میں کی گئی اضافے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارکنگ پہلے ہی تاجروں اور بازار آنے والے لوگوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے اور فیس میں اضافہ مشکلات کو مزید بڑھا دے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن نے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے نائب چیئرمین روپیش کمار سے ملاقات کرکے اضافی فیس کم کرنے کی درخواست کی ہے۔
جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر راجیو گپتا نے بھی پارکنگ فیس میں اضافے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عام شہریوں اور تاجروں پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بس اسٹینڈ پارکنگ کی فیس میں اسی طرح اضافہ جاری رہا تو بڑی تعداد میں لوگ وہاں گاڑیاں کھڑی کرنے سے گریز کریں گے اور مجبوراً سڑک کے کنارے گاڑیاں پارک کریں گے، جس سے شہر میں ٹریفک جام اور آمدورفت کے مسائل مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔
چیمبر نے بھی جلد جموں ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے نائب چیئرمین سے ملاقات کرکے فیس میں اضافے پر اپنا موقف پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تنظیموں نے جے ڈی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ اضافی فیس واپس لے کر عام لوگوں اور تاجروں کی استطاعت کے مطابق مناسب پارکنگ فیس مقرر کی جائے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر